تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی اللہ تعالیٰ کی وہ حرمات اور اس کے شعائر کی تعظیم جس کا ہم نے تمھارے سامنے ذکر کیا ہے اور شعائر سے مراد دین کی ظاہری علامات ہیں۔ انھی شعائر میں تمام مناسک حج شامل ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿اِنَّالصَّفَاوَالْ٘مَرْوَةَمِنْشَعَآىِٕرِاللّٰهِ﴾ (البقرۃ:2؍158) ”صفا اور مروہ اللہ کے شعائر میں سے ہیں۔“ بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانور بھی اللہ تعالیٰ کے شعائر ہیں اور گزشتہ سطور میں ذکر کیا جا چکا ہے کہ ان شعائر کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر، ان کو قائم کرنا اور بندے کی استطاعت اور قدرت کے مطابق ان کی تکمیل کرنا ہے۔ ہدی یعنی بیت اللہ کو بھیجے گئے قربانی کے جانوربھی شعائر اللہ میں سے ہیں۔ پس ان کی تعظیم سے مراد ان کی توقیر کرنا ان کو اچھا جاننا اور ان کو موٹا کرنا ہے، نیز یہ کہ قربانی کے یہ جانور ہر لحاظ سے کامل ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے شعائر کی تعظیم، دلوں کے تقویٰ سے صادر ہوتی ہے۔ پس شعائر کی تعظیم کرنے والا اپنے تقویٰ اور صحت ایمان کی دلیل پیش کرتا ہے، اس لیے کہ شعائر کی تعظیم دراصل اللہ تعالیٰ کی تعظیم و توقیر کے تابع ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: ذلك الذي ذكرنا لكم من تعظيم حُرُماتِهِ وشعائِرِه، والمرادُ بالشعائرِ أعلامُ الدين الظاهرة:
ومنها: المناسك كلُّها؛ كما قال تعالى: {إنَّ الصَّفا والمروة من شعائر الله}.
ومنها: الهدايا والقُربان للبيتِ، وتقدَّم أنَّ معنى تعظيمها إجلالها والقيام بها وتكميلها على أكمل ما يقدِرُ عليه العبد.
ومنها: الهدايا؛ فتعظيمُها باستحسانها واستسمانها، وأن تكون مكمَّلةً من كلِّ وجهٍ. فتعظيمُ شعائِر الله صادرٌ من تَقْوى القلوب؛ فالمعظِّم لها يبرهِنُ على تقواه وصحَّة إيمانِهِ؛ لأنَّ تعظيمها تابعٌ لتعظيم الله وإجلاله.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔