تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الحج (22) — آیت 34

وَ لِکُلِّ اُمَّۃٍ جَعَلۡنَا مَنۡسَکًا لِّیَذۡکُرُوا اسۡمَ اللّٰہِ عَلٰی مَا رَزَقَہُمۡ مِّنۡۢ بَہِیۡمَۃِ الۡاَنۡعَامِ ؕ فَاِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ فَلَہٗۤ اَسۡلِمُوۡا ؕ وَ بَشِّرِ الۡمُخۡبِتِیۡنَ ﴿ۙ۳۴﴾
اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کی ہے، تاکہ وہ ان پالتو چوپاؤں پر اللہ کا نام ذکر کریں جو اس نے انھیں دیے ہیں۔ سو تمھارا معبود ایک معبود ہے تو اسی کے فرماںبردار ہو جاؤ اور عاجزی کرنے والوں کو خوش خبری سنادے۔ En
اور ہم نے ہر اُمت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے ان کو دیئے ہیں (ان کے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں۔ سو تمہارا معبود ایک ہی ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنادو
En
اور ہر امت کے لئے ہم نے قربانی کے طریقے مقرر فرمائے ہیں تاکہ وه ان چوپائے جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اللہ نے انہیں دے رکھے ہیں۔ سمجھ لو کہ تم سب کا معبود برحق صرف ایک ہی ہے تم اسی کے تابع فرمان ہو جاؤ عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنا دیجئے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ہم نے گزشتہ تمام قوموں کے لیے قربانی کو مشروع کیا ہے۔ پس تم تیزی کے ساتھ نیکیوں کی طرف بڑھو تاکہ ہم دیکھیں کہ تم میں سے کون اچھے عمل کرتا ہے۔ ہر قوم میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے قربانی کے طریقے کو مقرر کرنے میں حکمت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ذکر قائم اور اس کے شکر کی طرف التفات ہو، اس لیے فرمایا: ﴿ لِّیَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِیْمَةِ الْاَنْعَامِ١ؕ فَاِلٰهُكُمْ اِلٰ٘هٌ وَّاحِدٌ اگرچہ تمام شریعتیں مختلف ہیں مگر ایک اصول پر سب متفق ہیں اور وہ ہے اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اللہ تعالیٰ اکیلے کا عبودیت کا مستحق ہونا اور اس کے ساتھ شرک کا ترک کر دینا، اس لیے فرمایا: ﴿ فَلَهٗۤ اَسْلِمُوْا یعنی اسی کی اطاعت کرو اسی کے سامنے سرتسلیم خم کرو، اس کے سوا کسی کی اطاعت نہ کرو کیونکہ اس کی اطاعت ہی سلامتی کے گھر تک پہنچنے کا راستہ ہے۔ ﴿وَبَشِّرِ الْمُخْبِتِیْنَ یعنی عاجزی کرنے والوں کو دنیا و آخرت کی بھلائی کی خوشخبری دو (اَلْمُخْبِت) سے مراد اپنے رب کے سامنے عاجزی اور فروتنی کرنے والا، اس کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کرنے والا اور اس کے بندوں کے ساتھ نہایت تواضع سے پیش آنے والا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {ولكلِّ أمةٍ}: من الأمم السالفة {جَعَلْنا منْسَكاً}؛ أي: فاستبقوا إلى الخيرات وتسارعوا إليها، ولننظر أيُّكم أحسن عملاً. والحكمة في جعل الله لكلِّ أمَّةٍ مَنْسَكاً؛ لإقامة ذكره والالتفات لشكره، ولهذا قال: {لِيَذْكُروا اسم الله على ما رَزَقَهم من بهيمةِ الأنعام فإلهكُم إلهٌ واحدٌ}: وإن اختلفتْ أجناسُ الشرائع؛ فكلُّها متفقةٌ على هذا الأصل، وهو ألوهيَّة الله وإفرادُهُ بالعبوديَّة وترك الشرك به، ولهذا قال: {فله أسْلِموا}؛ أي: انقادوا واستسلموا له لا لغيرِهِ؛ فإنَّ الإسلامَ له طريق إلى الوصول إلى دار السلام. {وبشَّرِ المخبِتينَ}: بخير الدُّنيا والآخرة، والمخبِتُ، الخاضع لربِّه، المستسلم لأمره، المتواضع لعباده.