اس حال میں کہ اللہ کے لیے ایک طرف ہونے والے ہو، اس کے ساتھ کسی کو شریک کرنے والے نہیں اورجو اللہ کے ساتھ شریک ٹھہرائے تو گویا وہ آسمان سے گر پڑا، پھر اسے پرندے اچک لیتے ہیں، یا اسے ہوا کسی دور جگہ میں گرا دیتی ہے۔
En
صرف ایک خدا کے ہو کر اس کے ساتھ شریک نہ ٹھیرا کر۔ اور جو شخص (کسی کو) خدا کے ساتھ شریک مقرر کرے تو وہ گویا ایسا ہے جیسے آسمان سے گر پڑے پھر اس کو پرندے اُچک لے جائیں یا ہوا کسی دور جگہ اُڑا کر پھینک دے
اللہ کی توحید کو مانتے ہوئے اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتے ہوئے۔ سنو! اللہ کے ساتھ شریک کرنے واﻻ گویا آسمان سے گر پڑا، اب یا تو اسے پرندے اچک لے جائیں گے یا ہوا کسی دور دراز کی جگہ پھینک دے گی
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ ﴿ حُنَفَآءَؔلِلّٰهِ ﴾ اللہ تعالیٰ کے لیے یکسور ہیں یعنی ہر ماسوا سے منہ پھیر کر صرف اللہ تعالیٰ اور اس کی عبادت پر اپنی توجہ کو مرکوز رکھیں۔ ﴿ وَمَنْیُّشْ٘رِكْبِاللّٰهِ ﴾”اور جو اللہ کے ساتھ شرک کرتا ہے۔“ اس کی مثال ایسے ہے۔ ﴿ فَكَاَنَّمَاخَرَّمِنَالسَّمَآءِ ﴾ جیسے کہ وہ آسمان سے گر پڑا ہو۔ ﴿ فَتَخْطَفُهُالطَّیْرُ ﴾”پس پرندوں نے اسے اچک لیا ہو“ نہایت سرعت سے ﴿ اَوْتَهْوِیْبِهِالرِّیْحُفِیْمَكَانٍسَحِیْقٍ ﴾”یا ہوا اسے کہیں دور لے جا کر پھینک دے۔“ یہی حال مشرکین کا ہے۔ پس ایمان آسمان کی مانند محفوظ اور بلند ہے اور جس نے ایمان کو ترک کر دیا وہ اس چیز کی مانند ہے جو آسمان سے گرے اور آفات و بلیات کا شکار ہو جائے تو اسے پرندے اچک لیتے ہیں اور اس کے اعضاء کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے ہیں۔ مشرک کا یہی حال ہے جب وہ ایمان کو ترک کر دیتا ہے تو شیاطین ہر جانب سے اسے اچک لیتے ہیں، اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالتے ہیں اور اس کا دین اور دنیا تباہ کر دیتے ہیں … یا اسے سخت تیز ہوا لے اڑتی ہے اور اسے فضا کے مختلف طبقات میں لیے پھرتی ہے اور اس کے اعضاء کے چیتھڑے بنا کر کہیں دور جا پھینکتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أمرهم أن يكونوا {حُنَفاء لله}؛ أي: مقبلين عليه وعلى عبادته، معرِضين عما سواه. {غير مشركين بِهِ ومَن يشرِكْ بالله}: فمثله {فكأنَّما خَرَّ من السماء}؛ أي: سقط منها، {فَتَخْطَفُه الطيرُ}: بسرعة، {أو تَهْوي به الريحُ في مكانٍ سحيقٍ}؛ أي: بعيد. كذلك المشركون ؛ فالإيمان بمنزلة السماء محفوظة مرفوعة، ومن تَرَكَ الإيمان بمنزلة الساقط من السماء عرضة للآفات والبليَّات؛ فإما أن تَخْطَفَهُ الطيرُ فتقطِّعَه أعضاءً، كذلك المشرك إذا ترك الاعتصام بالإيمان؛ تخطفتْه الشياطينُ من كلِّ جانب، ومزَّقوه، وأذهبوا عليه دينَه ودُنياه.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔