تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 92

اِنَّ ہٰذِہٖۤ اُمَّتُکُمۡ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً ۫ۖ وَّ اَنَا رَبُّکُمۡ فَاعۡبُدُوۡنِ ﴿۹۲﴾
بے شک یہ ہے تمھاری امت جو ایک ہی امت ہے اور میں ہی تمھارا رب ہوں، سو میری عبادت کرو۔ En
یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا پروردگار ہوں تو میری ہی عبادت کیا کرو
En
یہ تمہاری امت ہے جو حقیقت میں ایک ہی امت ہے، اور میں تم سب کا پروردگار ہوں پس تم میری ہی عبادت کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے انبیائے کرام علیہم السلام کا ذکر فرمایا تو لوگوں سے مخاطب ہو کر فرمایا: ﴿ اِنَّ هٰؔذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً یہ تمام انبیاء و مرسلین جن کا ذکر گزشتہ سطور میں گزر چکا ہے وہ تمھاری امت اور تمھارے امام ہیں جن کی راہنمائی میں تم ان کے طریقے کی پیروی کرتے ہو۔ ان سب کا دین ایک، سب کا راستہ ایک اور سب کا رب ایک ہے۔ بناء بریں فرمایا: ﴿ وَّاَنَا رَبُّكُمْ میں تمھارا رب ہوں جس نے تمھیں پیدا کیا اور دین و دنیا میں اپنی نعمت کے ذریعے سے تمھاری پرورش کی۔
جب تمھارا رب ایک، تمھارا نبی ایک اور تمھارا دین ایک، یعنی عبادت کی تمام انواع کے ذریعے ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا… تو تمھارا وظیفہ اور تم پر فرض ہے کہ تم اسی کی عبادت کرو، اس لیے فرمایا: ﴿ فَاعْبُدُوْنِ پس تم میری ہی عبادت کرو۔ پس حرف فاء کے ذریعے سے اس جملے کو گزشتہ مضمون کے ساتھ اس طرح مرتب کیا جس طرح مسبب سبب پر مترتب ہوتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما ذَكَرَ الأنبياء عليهم السلام؛ قال مخاطباً للناس: و {إنَّ هذه أمَّتُكم أمةً واحدةً}؛ أي: هؤلاء الرسل المذكورون هم أمَّتُكم وأئمَّتُكم الذين بهم تأتمُّون وبهديهم تقتدون، كلُّهم على دينٍ واحدٍ وصراطٍ واحدٍ، والربُّ أيضاً واحدٌ، ولهذا قال: {وأنا ربُّكم}: الذي خلقتُكم وربَّيتكم بنعمتي في الدين والدُّنيا؛ فإذا كان الربُّ واحداً والنبيُّ واحداً والدين واحداً، وهو عبادةُ الله وحده لا شريك له بجميع أنواع العبادة؛ كان وظيفتُكم والواجبُ عليكم القيامَ بها، ولهذا قال: {فاعبدونِ}: فرتَّب العبادة على ما سبق بالفاء ترتيب المسبب على سببه.