ایوب (علیہ السلام) کی اس حالت کو یاد کرو جبکہ اس نے اپنے پروردگار کو پکارا کہ مجھے یہ بیماری لگ گئی ہے اور تو رحم کرنے والوں سے زیاده رحم کرنے واﻻ ہے
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یعنی ہمارے بندے اور رسول ایوب علیہ السلام کا تعظیم و ثنا اور ان کی قدرو منزلت بڑھاتے ہوئے ذکرکیجیے جب اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک نہایت ہی سخت آزمائش میں مبتلا کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے ان کو صابر اور اللہ سے راضی پایا… اور یہ اس طرح ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ابتلا اور آزمائش کے طور پر شیطان کو آپ پر مسلط کر دیا گیا۔ شیطان نے آپ کے جسم پر پھونک ماری جس کے نتیجہ میں جسم پر بڑے بڑے پھوڑے بن گئے، وہ اس امتحان اور مصیبت میں مدت تک مبتلا رہے۔ اس دوران میں آپ کے گھر والے وفات پا گئے، آپ کا تمام مال چلا گیا تب حضرت ایوب نے اپنے رب کو پکارا: ﴿ اَنِّیْمَسَّنِیَالضُّ٘رُّوَاَنْتَاَرْحَمُالرّٰحِمِیْنَ ﴾”مجھے تکلیف پہنچی ہے اور تو سب رحم کرنے والوں میں سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔“ پس انھوں نے اپنے حال کے ذکر کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ اب تکلیف اپنی انتہاء کو پہنچ گئی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
أي: واذكُر عبدَنا ورسولَنا أيوب مثنياً معظماً له رافعاً لقدرِهِ حين ابتلاه ببلاء شديدٍ فوجَدَه صابراً راضياً عنه، وذلك أنَّ الشيطان سُلِّطَ على جسدِهِ ابتلاءً من اللَّه وامتحاناً، فنفخ في جسدِهِ، فتقرَّح قروحاً عظيمةً، ومكث مدَّةً طويلة، واشتدَّ به البلاءُ، ومات أهلُه، وذهب مالُه، فنادى ربَّه: ربِّ {أَنَّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وأنتَ أرحم الراحمين}: فتوسَّل إلى الله بالإخبار عن حال نفسه، وأنَّه بلغ الضرُّ منه كلَّ مبلغ، وبرحمة ربِّه الواسعة العامة.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔