تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 82

وَ مِنَ الشَّیٰطِیۡنِ مَنۡ یَّغُوۡصُوۡنَ لَہٗ وَ یَعۡمَلُوۡنَ عَمَلًا دُوۡنَ ذٰلِکَ ۚ وَ کُنَّا لَہُمۡ حٰفِظِیۡنَ ﴿ۙ۸۲﴾
اور کئی شیطان جو اس کے لیے غوطہ لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے۔ En
اور دیوؤں (کی جماعت کو بھی ان کے تابع کردیا تھا کہ ان) میں سے بعض ان کے لئے غوطے مارتے تھے اور اس کے سوا اور کام بھی کرتے تھے اور ہم ان کے نگہبان تھے
En
اسی طرح سے بہت سے شیاطین بھی ہم نے اس کے تابع کیے تھے جو اس کے فرمان سے غوطے لگاتے تھے اور اس کے سوا بھی بہت سے کام کرتے تھے، ان کے نگہبان ہم ہی تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَمِنَ الشَّیٰطِیْنِ مَنْ یَّغُوْصُوْنَ لَهٗ وَیَعْمَلُوْنَ عَمَلًا دُوْنَ ذٰلِكَ اور جنات میں سے بھی ہم نے بہت سے ان کے تابع کر دیے تھے جو ان کے لیے غوطے لگاتے تھے اور اس کے علاوہ کئی کام کرتے تھے۔ یہ چیز بھی سلیمان علیہ السلام کے خصائص میں شمار ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے جن اور عفریت مسخر کر دیے اور آپ کو ان پر تسلط بخشا۔ وہ آپ کے لیے بڑے بڑے کام کرتے تھے اور ان میں سے بہت سے کاموں کو ان کے سوا کوئی اور نہیں کر سکتا تھا۔ ان میں کچھ جن وہ تھے جو سمندر میں غوطہ لگاتے اور اس کی تہہ سے موتی نکالتے تھے اور کچھ وہ تھے جو ان کے لیے ﴿ مَّحَارِیْبَ وَتَمَاثِیْلَ وَجِفَانٍ كَالْجَوَابِ وَقُدُوْرٍ رّٰسِیٰتٍ (سبا:34؍13) اونچی محرابیں (عمارتیں) تصویریں، بڑے بڑے حوض کی مانند لگن اور اپنی جگہ پر جمی ہوئی بڑی بڑی دیگیں بناتے تھے۔ اور ان میں سے ایک گروہ کو بیت المقدس کی تعمیر کے لیے مسخر کر رکھا تھا۔ جب سلیمان علیہ السلام نے وفات پائی تو جن بیت المقدس کی تعمیر میں مصروف تھے آپ کی وفات کے بعد ایک سال تک یہ کام کرتے رہے یہاں تک کہ ان کو آپ کی وفات کا علم ہو گیا جیسا کہ ان شاء اللہ عنقریب اس کا ذکر آئے گا۔
﴿وَؔكُنَّا لَهُمْ حٰؔفِظِیْنَ اور ہم ان کی حفاظت کرنے والے تھے۔ یعنی وہ سلیمان علیہ السلام کی نافرمانی پر قادر نہ تھے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قوت، غلبہ اور تسلط کے ذریعے سے ان کو حضرت سلیمان علیہ السلام کا مطیع کر رکھا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ومِنَ الشياطين مَن يغوصون له ويَعْمَلون عملاً دونَ ذلك}: وهذا أيضاً من خصائص سليمان عليه السلام: أنَّ الله سَخَّر له الشياطين والعفاريتَ، وسلَّطه على تسخيرِهم في الأعمال التي لا يقدِرُ على كثيرٍ منها غيرهم، فكان منهم مَنْ يَغوصُ له البحر ويستخرِجُ الدُّرَّ واللؤلؤ وغير ذلك، ومنهم من يعمل له {محاريبَ وتماثيلَ وجفانٍ كالجواب وقدورٍ راسياتٍ}. وسخَّر طائفةً منهم لبناء بيت المقدس، ومات وهم على عمله، وبقوا بعدَه سنةً، حتَّى علموا موتَه؛ كما سيأتي إن شاء الله تعالى. {وكنَّا لهم حافظين}؛ أي: لا يقدِرون على الامتناع منه وعصيانِهِ، بل حَفِظَهم الله له بقوَّته وعزَّته وسلطانه.