تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 84

فَاسۡتَجَبۡنَا لَہٗ فَکَشَفۡنَا مَا بِہٖ مِنۡ ضُرٍّ وَّ اٰتَیۡنٰہُ اَہۡلَہٗ وَ مِثۡلَہُمۡ مَّعَہُمۡ رَحۡمَۃً مِّنۡ عِنۡدِنَا وَ ذِکۡرٰی لِلۡعٰبِدِیۡنَ ﴿۸۴﴾
تو ہم نے اس کی دعا قبول کرلی، پس اسے جو بھی تکلیف تھی دور کر دی اور اسے اس کے گھر والے اور ان کے ساتھ ان کی مثل (اور) عطا کر دیے، اپنے پاس سے رحمت کے لیے اور ان لوگوں کی یاددہانی کے لیے جو عبادت کرنے والے ہیں۔ En
تو ہم نے ان کی دعا قبول کرلی اور جو ان کو تکلیف تھی وہ دور کردی اور ان کو بال بچے بھی عطا فرمائے اور اپنی مہربانی کے ساتھ اتنے ہی اور (بخشے) اور عبادت کرنے والوں کے لئے (یہ) نصیحت ہے
En
تو ہم نے اس کی سن لی اور جو دکھ انہیں تھا اسے دور کر دیا اور اس کو اہل وعیال عطا فرمائے بلکہ ان کے ساتھ ویسے ہی اور اپنی خاص مہربانی سے تاکہ سچے بندوں کے لئے سبب نصیحت ہو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

ان کے رب نے اپنی بے پایاں رحمت سے ان کی دعا قبول فرما لی اور فرمایا: ﴿ اُرْؔكُ٘ضْ بِرِجْلِكَ١ۚ هٰؔذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِدٌ وَّشَرَابٌ (ص:38؍42) زمین پر اپنا پاؤں مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے اور پینے کے لیے۔ ایوب علیہ السلام نے زمین پر ایڑی ماری اور وہاں سے ٹھنڈے پانی کا چشمہ پھوٹ پڑا۔ آپ نے اس پانی کو پیا اور اس سے غسل کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی تکلیف دور کر دی۔
﴿وَّاٰتَیْنٰهُ اَهْلَهٗ یعنی ہم نے ان کو ان کا مال اور اہل و عیال واپس لوٹا دیے ﴿ وَمِثْلَهُمْ مَّعَهُمْ اور ان کی مثل ان کے ساتھ اور۔ اس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عافیت، اہل و عیال اور بہت سا مال عطا کیا ﴿ رَحْمَةً مِّنْ عِنْدِنَا اپنی طرف سے مہربانی کرتے ہوئے۔ کیونکہ آپ نے صبر کیا اور اللہ تعالیٰ پر راضی رہے تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو اخروی ثواب سے پہلے دنیاوی ثواب سے سرفراز کیا۔ ﴿ وَذِكْرٰى لِلْعٰبِدِیْنَ ہم نے اس واقعہ کو عبادت گزاروں کے لیے عبرت بنا دیا جو صبر سے کام لیتے ہیں۔ اگر لوگ دیکھیں کہ ایوب علیہ السلام کس آزمائش میں مبتلا ہوئے پھر اس مصیبت کے زائل ہونے کے بعد اللہ تعالیٰ نے آپ کو کتنے بڑے ثواب سے نوازا تو صبر ہی کو اس کا سبب پائیں گے۔ بناء بریں اللہ تعالیٰ نے ایوب علیہ السلام کی ان الفاظ میں مدح فرمائی۔ ﴿اِنَّا وَجَدْنٰهُ صَابِرًا١ؕ نِعْمَ الْعَبْدُ١ؕ اِنَّهٗۤ اَوَّابٌ (ص:38؍44) ہم نے اسے صبر کرنے والا پایا، وہ بہترین بندہ اور اپنے رب کی طرف بہت ہی رجوع کرنے والا تھا۔ جب اہل ایمان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو حضرت ایوب علیہ السلام کے اسوہ پر عمل کرتے ہوئے صبر کرتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فاستجاب الله له وقال له: {اركُضْ برجلِكَ هذا مغتسَلٌ باردٌ وشرابٌ}: فركض برجلِهِ، فخرجتْ من ركضتِهِ عينُ ماء باردةٍ، فاغتسل منها، وشرب، فأذهب الله ما به من الأذى. {وآتَيْناه أهلَه}؛ أي: ردَدْنا عليه أهله وماله. {ومثلَهم معهم}: بأن منحه الله [مع] العافية من الأهل والمال شيئاً كثيراً، {رحمةً من عندنا}: به حيثُ صَبَرَ ورضي، فأثابه الله ثواباً عاجلاً قبل ثواب الآخرة. {وذِكْرى للعابدينَ}؛ أي: جعلناه عبرةً للعابدين الذين ينتفعون بالصبرِ؛ فإذا رأوا ما أصابه من البلاءِ، ثم ما أثابه بعد زواله، ونظروا السببَ؛ وجدوه الصبر، ولهذا أثنى الله عليه به في قوله: {إنَّا وَجَدْناه صابراً نعم العبدُ إنَّه أوابٌ}، فجعلوه أسوةً وقدوةً عندما يصيبُهُم الضرُّ.