تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 81

وَ لِسُلَیۡمٰنَ الرِّیۡحَ عَاصِفَۃً تَجۡرِیۡ بِاَمۡرِہٖۤ اِلَی الۡاَرۡضِ الَّتِیۡ بٰرَکۡنَا فِیۡہَا ؕ وَ کُنَّا بِکُلِّ شَیۡءٍ عٰلِمِیۡنَ ﴿۸۱﴾
اور سلیمان کے لیے ہوا (مسخر کر دی) جو تندوتیز تھی، اس کے حکم سے اس زمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکت رکھی اور ہم ہر چیز کو جاننے والے تھے۔ En
اور ہم نے تیز ہوا سلیمان کے تابع (فرمان) کردی تھی جو ان کے حکم سے اس ملک میں چلتی تھی جس میں ہم نے برکت دی تھی (یعنی شام) اور ہم ہر چیز سے خبردار ہیں
En
ہم نے تند وتیز ہوا کو سلیمان (علیہ السلام) کے تابع کر دیا جو اس کے فرمان کے مطابق اس زمین کی طرف چلتی تھی جہاں ہم نے برکت دے رکھی تھی، اور ہم ہر چیز سے باخبر اور دانا ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَلِسُلَ٘یْمٰنَ الرِّیْحَ یعنی ہم نے سلیمان علیہ السلام کے لیے ہوا کو مسخر کر دیا ﴿عَاصِفَةً جو بہت تیز چلتی تھی۔ ﴿تَجْرِیْ بِاَمْرِهٖۤ جہاں چلنے کا اس کو حکم دیا جاتا تھا ہَوا اس حکم کی اطاعت کرتی تھی۔ صبح کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی منزل تک تھا۔ ﴿اِلَى الْاَرْضِ الَّتِیْ بٰرَؔكْنَا فِیْهَا اس زمین کی طرف، جس میں ہم نے برکت رکھی تھی۔ یعنی سرزمین شام، جو سلیمان علیہ السلام کا مستقر تھا، وہ ہوا کے دوش پر مشرق و مغرب میں سفر کرتے تھے اور ہوا کا ٹھکانا اور لوٹنا ارض مقدس کی طرف ہوتا تھا۔ ﴿وَؔكُنَّا بِكُ٘لِّ شَیْءٍ عٰؔلِمِیْنَ ہمارا علم، تمام چیزوں کا احاطہ كيے ہوئے ہے ہم نے داؤد اور سلیمان علیہما السلام کو ان امور کی تعلیم دی جن کے ذریعے سے ہم نے ان کو اس مقام پر پہنچایا جس کا ہم ذکر کر چکے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{ولسليمان الريح}؛ أي: سخَّرناها {عاصفةً}؛ أي: سريعة في مرورها، {تَجْري بأمرِه}: حيث دبرت امتثلت أمره، غدوُّها شهرٌ ورَواحها شهرٌ، {إلى الأرض التي بارَكْنا فيها}: وهي أرض الشام؛ حيث كان مقرُّه، فيذهب على الريح شرقاً وغرباً، ويكون مأواها ورجوعُها إلى الأرض المباركة. {وكنَّا بكلِّ شيءٍ عالمِينَ}: قد أحاط علمُنا بجميع الأشياء، وعَلِمْنا من داود وسليمان ما أوصَلْناهما به إلى ما ذكرنا.