تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَنَجَّیْنٰهُوَلُوْطًا ﴾”اور ہم نے اسے اور لوط کی نجات دی۔“ اور اس کی وجہ یہ تھی کہ ابراہیم علیہ السلام پر حضرت لوط علیہ السلام کے سوا کوئی شخص ایمان نہ لایا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ لوط علیہ السلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کو کفار سے نجات دی اور وہ ہجرت کر گئے ﴿ اِلَىالْاَرْضِالَّتِیْبٰ٘رَؔكْنَافِیْهَالِلْ٘عٰلَمِیْنَ ﴾”اس زمین کی طرف جس میں ہم نے جہانوں کے لیے برکت رکھی ہے۔“ اس سے مراد ملک شام ہے، یعنی وہ اپنی قوم کو ”بابل“ یعنی عراق میں چھوڑ کر شام کی طرف ہجرت کر گئے۔ ﴿وَقَالَاِنِّیْذَاهِبٌاِلٰىرَبِّیْ ﴾ (الصافات:37؍99) ”انھوں نے کہا، میں اپنے رب کی طرف ہجرت کر رہا ہوں۔“
سرزمین شام کی برکتوں میں سے چند یہ ہیں کہ بہت سے انبیاء کرام یہیں پیدا ہوئے اور اللہ تعالیٰ نے اس کو حضرت خلیل علیہ السلام کی ہجرت کے لیے چن لیا اور اللہ تعالیٰ کے تین مقدس گھروں میں ایک گھر یہیں واقع ہے یعنی بیت المقدس۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ونجَّيْناه ولوطاً}: وذلك أنَّه لم يؤمن به من قومِهِ إلاَّ لوطٌ عليه السلام، قيل: إنَّه ابن أخيه، فنجَّاه الله، وهاجر {إلى الأرض التي بارَكْنا فيها للعالمين}؛ أي: الشام، فغادر قومه في بابل من أرض العراق، {وقال إنِّي مهاجر إلى ربِّي إنَّه هو العزيز الحكيم}. ومن بركةِ الشام أنَّ كثيراً من الأنبياء كانوا فيها، وأنَّ الله اختارَها مهاجَرَاً لخليلِهِ، وفيها أحدُ بيوتِهِ الثلاثة المقدَّسة، وهو بيت المقدس.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔