تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَوَهَبْنَالَهٗۤ﴾”اور ہم نے عطا کیے اسے۔“ جب وہ اپنی قوم سے علیحدگی اختیار کر کے ہجرت کر گئے ﴿ اِسْحٰقَ١ؕوَیَعْقُوْبَ ﴾”اسحاق اور یعقوب بن اسحاق علیہما السلام “﴿نَافِلَةً﴾”مزید“ یعنی ابراہیم علیہ السلام کے بوڑھا ہو جانے کے بعد، جبکہ ان کی بیوی بھی بانجھ تھی۔ فرشتوں نے ان کو اسحاق علیہ السلام کی خوشخبری دی۔ ﴿وَمِنْوَّرَؔآءِاِسْحٰؔقَیَعْقُوْبَ ﴾ (ھود:11؍71) ”اور اسحاق کے بعد یعقوب کی خوشخبری دی۔“ اور یعقوب سے مراد حضرت اسرائیل علیہ السلام ہیں جو ایک بہت بڑی امت کے جدامجد ہیں اور حضرت اسماعیل بن ابراہیم علیہما السلام، فضیلت والی امت عربی کے جدامجد ہیں۔ اولین و آخرین کے سردار حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم آپ ہی کی نسل میں سے ہیں۔ ﴿ وَكُلًّا﴾”اور ہر ایک کو۔“ یعنی ابراہیم، اسحاق اور یعقوب علیہم السلام کو ﴿ جَعَلْنَاصٰؔلِحِیْنَ ﴾”ہم نے نیک بنایا۔“ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حقوق کو قائم کرنے والے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{ووهَبْنا له}: حين اعتزل قومَه، {إسحاقَ ويعقوبَ}: ابن إسحاق، {نافلةً}: بعدما كبر وكانت زوجتُهُ عاقراً، فبشَّرته الملائكةُ بإسحاق، {ومن وراءِ إسحاقَ يعقوبَ}، ويعقوب هو إسرائيل الذي كانت منه الأمة العظيمة، وإسماعيل بن إبراهيم الذي كانت منه الأمة الفاضلة العربيَّة، ومن ذرِّيَّته سيد الأولين والآخرين. {وكلاًّ}: من إبراهيم وإسحاق ويعقوب، {جَعَلْنا صالحين}؛ أي: قائمين بحقوقِهِ وحقوق عباده.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔