تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 70

وَ اَرَادُوۡا بِہٖ کَیۡدًا فَجَعَلۡنٰہُمُ الۡاَخۡسَرِیۡنَ ﴿ۚ۷۰﴾
اور انھوں نے اس کے ساتھ ایک چال کا ارادہ کیا توہم نے انھی کو انتہائی خسارے والے کر دیا۔ En
اور ان لوگوں نے برا تو ان کا چاہا تھا مگر ہم نے ان ہی کو نقصان میں ڈال دیا
En
گو انہوں نے ابراہیم (علیہ السلام) کا برا چاہا، لیکن ہم نے انہیں ناکام بنا دیا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَاَرَادُوْا بِهٖ كَیْدًا انھوں نے ابراہیم کے ساتھ برا چاہا۔ یعنی ان کو جلانے کا ارادہ کیا ﴿ فَجَعَلْنٰهُمُ الْاَخْ٘سَرِیْنَ پس ہم نے انھی کو نقصان اٹھانے والوں میں سے کر دیا۔ یعنی دنیا و آخرت میں ان کو گھاٹا کھانے والوں میں شامل کر دیا اور اس کے برعکس خلیل علیہ السلام اور آپ کے پیروکاروں کو نفع اٹھانے اور فلاح پانے والے لوگوں میں شامل کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وأرادوا به كيداً}: حيث عَزَموا على إحراقه، {فَجَعَلْناهم الأخسرينَ}؛ أي: في الدنيا والآخرة؛ كما جعل الله خليله وأتباعه هم الرابحين المفلحين.