تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 69

قُلۡنَا یٰنَارُ کُوۡنِیۡ بَرۡدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤی اِبۡرٰہِیۡمَ ﴿ۙ۶۹﴾
ہم نے کہا اے آگ! تو ابراہیم پر سراسر ٹھنڈک اور سلامتی بن جا۔ En
ہم نے حکم دیا اے آگ سرد ہوجا اور ابراہیم پر (موجب) سلامتی (بن جا)
En
ہم نے فرما دیا اے آگ! تو ٹھنڈی پڑ جا اور ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے سلامتی (اور آرام کی چیز) بن جا! En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پس جب انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں ڈال دیا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل کی مدد فرمائی اور آگ کو حکم دیا: ﴿ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّسَلٰ٘مًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہو جا۔ اور آگ سلامتی کے ساتھ ٹھنڈی ہو گئی اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کو کوئی اذیت اور کوئی گزند نہ پہنچی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فانتصر الله لخليلِهِ لمَّا ألقَوْه في النار، وقال لها: {كوني بَرْداً وسلاماً على إبراهيم}: فكانت عليه برداً وسلاماً، لم يَنَلْهُ فيها أذى، ولا أحسَّ بمكروه.