تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب ابراہیم علیہ السلام نے ان کو لاجواب کر دیا اور وہ اپنی دلیل کو واضح نہ کر سکے تو آپ کو سزا دینے کے لیے قوت استعمال کی، چنانچہ وہ کہنے لگے: ﴿ حَرِّقُ٘وْهُوَانْ٘صُرُوْۤااٰلِهَتَكُمْاِنْكُنْتُمْفٰعِلِیْ٘نَ ﴾ یعنی اسے بدترین طریقے سے قتل کرو، اپنے معبودوں کی حمایت اور تائید میں، اسے آگ میں ڈال دو… ان کے لیے ہلاکت ہے، وہ ان معبودوں کی عبادت کرتے ہیں اور ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کرتے ہیں کہ ان کے معبود اِن کی مدد کے محتاج ہیں، پھر بھی انھوں نے بے بس ہستیوں کو معبود بنا لیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فحينئذٍ لمَّا أفحمهم ولم يبيِّنوا حجةً؛ استعملوا قوتهم في معاقبتِهِ، فـ {قالوا حرِّقوه وانصُروا آلهتكم إن كنتُم فاعلينَ}؛ أي: اقتلوه أشنع القِتلات بالإحراق غضباً لآلهتكم ونُصرةً لها؛ فَتَعْساً لهم تَعْساً، حيثُ عبدوا من أقرُّوا أنه يحتاجُ إلى نصرِهم واتَّخذوه إلهاً!!
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔