تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 67

اُفٍّ لَّکُمۡ وَ لِمَا تَعۡبُدُوۡنَ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿۶۷﴾
اف ہے تم پر اور ان چیزوں پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، تو کیا تم سمجھتے نہیں۔ En
تف ہے تم پر اور جن کو تم خدا کے سوا پوجتے ہو ان پر بھی کیا تم عقل نہیں رکھتے؟
En
تف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو۔ کیا تمہیں اتنی سی عقل بھی نہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اُفٍّ لَّكُمْ وَلِمَا تَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ تُف ہے تم پر اور ان پر جن کی تم، اللہ کو چھوڑ کر، عبادت کرتے ہو۔ یعنی تم کتنے گمراہ، تمھاری تجارت کتنی گھاٹے کی تجارت اور تم اور تمھارے معبود جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو، کتنے گھٹیا ہو۔ ﴿ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ کیا تم عقل نہیں رکھتے کہ صورتحال کو پہچان سکو؟ چونکہ تم نے عقل سے عاری ہونے کی بنا پر جانتے بوجھتے، جہالت اور گمراہی کا ارتکاب کیا ہے اس لیے جانوروں کا حال تمھارے حال سے کہیں بہتر ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{أفٍّ لكم ولما تَعْبُدونَ من دون الله}؛ أي: ما أضلَّكم وأخسرَ صفقتكم وما أخسَّكم أنتم وما عبدتُم من دون الله!! إن كنتم تعقِلونَ عرفتُم هذه الحال، فلما عدمتُم العقلَ وارتكبتم الجهلَ والضَّلال على بصيرةٍ؛ صارت البهائم أحسنَ حالاً منكم.