تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 65

ثُمَّ نُکِسُوۡا عَلٰی رُءُوۡسِہِمۡ ۚ لَقَدۡ عَلِمۡتَ مَا ہٰۤؤُلَآءِ یَنۡطِقُوۡنَ ﴿۶۵﴾
پھر وہ اپنے سروں پر الٹے کر دیے گئے، بلاشبہ یقینا تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں۔ En
پھر (شرمندہ ہو کر) سر نیچا کرلیا (اس پر بھی ابراہیم سے کہنے لگے کہ) تم جانتے ہو یہ بولتے نہیں
En
پھر اپنے سروں کے بل اوندھے ہوگئے (اور کہنے لگے کہ) یہ تو تجھے بھی معلوم ہے کہ یہ بولنے چالنے والے نہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّ نُكِسُوْا عَلٰى رُءُوْسِهِمْ اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہنے لگے: ﴿ لَقَدْ عَلِمْتَ مَا هٰۤؤُلَآءِ یَنْطِقُوْنَ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولكن لم يستمرُّوا على هذه الحالة، ولكن {نُكِسوا على رؤوسهم}؛ أي: انقلب الأمر عليهم، وانتكست عقولهم، وضلَّت أحلامهم، فقالوا لإبراهيم: {لقد علمتَ ما هؤلاء ينطِقونَ}؛ فكيف تَهَكَّمُ بنا، وتستهزئ بنا، وتأمُرُنا أنْ نسألها، وأنتَ تعلم أنَّها لا تنطِقُ؟