تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
مگر وہ اس حالت پر قائم نہ رہ سکے بلکہ ﴿ ثُمَّنُكِسُوْاعَلٰىرُءُوْسِهِمْ﴾”اوندھے ہو گئے اپنے سروں کے بل۔“ یعنی ان کا معاملہ بدل گیا ان کی عقل اوندھی گئی اور ان کے خواب پریشان ہو گئے، چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہنے لگے: ﴿ لَقَدْعَلِمْتَمَاهٰۤؤُلَآءِیَنْطِقُوْنَ ﴾ تم کیسے ہمارے ساتھ ٹھٹھا اور تمسخر کر رہے ہو اور ہمیں کہہ رہے ہو کہ ہم ان بتوں سے پوچھ لیں حالانکہ تو جانتا ہے کہ یہ بول نہیں سکتے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولكن لم يستمرُّوا على هذه الحالة، ولكن {نُكِسوا على رؤوسهم}؛ أي: انقلب الأمر عليهم، وانتكست عقولهم، وضلَّت أحلامهم، فقالوا لإبراهيم: {لقد علمتَ ما هؤلاء ينطِقونَ}؛ فكيف تَهَكَّمُ بنا، وتستهزئ بنا، وتأمُرُنا أنْ نسألها، وأنتَ تعلم أنَّها لا تنطِقُ؟
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔