تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
جب ان کے سامنے یہ بات متحقق ہو گئی کہ یہ سب کچھ ابراہیم علیہ السلام نے کیا ہے ﴿ قَالُوْافَاْتُوْابِهٖ ﴾ تو کہنے لگے ابراہیم کو لے کر آؤ ﴿ عَلٰۤىاَعْیُنِالنَّاسِ﴾ یعنی لوگوں کے سامنے ﴿ لَعَلَّهُمْیَشْهَدُوْنَ﴾ یعنی جس شخص نے ان کے معبودوں کو توڑا ہے اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کے وقت لوگ موجود ہوں اور یہی بات ابراہیم علیہ السلام چاہتے تھے اور یہی ان کا مقصد تھا کہ لوگوں کے بھرے مجمع میں حق ظاہر ہو لوگ حق کا مشاہدہ کریں اور ان پر حجت قائم ہو جائے، جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون سے اس وقت کہا تھا جب اس نے موسیٰ علیہ السلام کو مقابلے کے لیے ایک دن مقرر کرنے کے لیے کہا تھا، چنانچہ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا تھا: ﴿ مَوْعِدُؔكُمْیَوْمُالزِّیْنَةِوَاَنْیُّحْشَرَالنَّاسُضُحًى ﴾ (طٰہ:20؍59) ”تمھارے لیے جشن کا دن مقرر ہوا چاشت کے وقت لوگوں کو اکٹھا کیا جائے۔“
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما تحقَّقوا أنه إبراهيم؛ {قالوا فأتوا بهِ}؛ أي: بإبراهيم، {على أعين الناس}؛ أي: بمرأى منهم ومسمع، {لعلَّهم يشهدونَ}؛ أي: يحضُرون ما يصنعُ بمن كَسَّرَ آلهتهم. وهذا الذي أراد إبراهيم وقَصَدَ: أن يكون بيانُ الحقِّ بمشهدٍ من الناس؛ ليشاهِدوا الحقَّ وتقوم عليهم الحجَّة؛ كما قال موسى حين واعَدَ فرعونَ: {موعِدُكم يومُ الزِّينة وأن يُحْشَرَ الناس ضحىً}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔