تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ سَمِعْنَافَتًىیَّذْكُرُهُمْ﴾ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا سَمِعْنا فتىً يذكُرُهم} ـ أي: يَعيبهم ويذُمُّهم، ومَنْ هذا شأنُهُ لا بدَّ أن يكون هو الذي كسرها، أو أنَّ بعضهم سَمِعَهُ يذكر أنه سيكيدها ـ {يُقال له إبراهيمُ}.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔