تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 60

قَالُوۡا سَمِعۡنَا فَتًی یَّذۡکُرُہُمۡ یُقَالُ لَہٗۤ اِبۡرٰہِیۡمُ ﴿ؕ۶۰﴾
لوگوں نے کہا ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔ En
لوگوں نے کہا کہ ہم نے ایک جوان کو ان کا ذکر کرتے ہوئے سنا ہے اس کو ابراہیم کہتے ہیں
En
بولے ہم نے ایک نوجوان کو ان کا تذکره کرتے ہوئے سنا تھا جسے ابراہیم (علیہ السلام) کہا جاتا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ سَمِعْنَا فَتًى یَّذْكُرُهُمْ یعنی جو ان بتوں کی عیب چینی اور مذمت کرتا تھا۔ جس کا یہ حال ہے یقینا اسی نے ان بتوں کو توڑا ہو گا۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام ان بتوں کے خلاف چال چلنے کی بات کر رہے تھے تو ان مشرکین میں سے کسی نے سن لیا ہو۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قالوا سَمِعْنا فتىً يذكُرُهم} ـ أي: يَعيبهم ويذُمُّهم، ومَنْ هذا شأنُهُ لا بدَّ أن يكون هو الذي كسرها، أو أنَّ بعضهم سَمِعَهُ يذكر أنه سيكيدها ـ {يُقال له إبراهيمُ}.