تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 58

فَجَعَلَہُمۡ جُذٰذًا اِلَّا کَبِیۡرًا لَّہُمۡ لَعَلَّہُمۡ اِلَیۡہِ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۵۸﴾
پس اس نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے، تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں۔ En
پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں
En
پس اس نے ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہاں صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا یہ بھی اس لئے کہ وه سب اس کی طرف ہی لوٹیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔
ذرا اس عجیب احتراز پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے: (الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف اور ﴿اِلَی الْعَظِیْمِ یعنی بڑی ہستی کی طرف جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔
یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اور یہ نہیں فرمایا:(کبیرا من اصنامھم) ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں۔
﴿ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ یعنی ابراہیم علیہ السلام نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما تَوَلَّوا مدبرين؛ ذَهَبَ إليها بِخفيةٍ، {فَجَعَلَهُمْ جُذاذاً}؛ أي: كِسَراً وقطعاً، وكانت مجموعةً في بيت واحدٍ فكسَّرها كلَّها، {إلاَّ كبيراً لهم}؛ أي: إلاَّ صنمهم الكبير؛ فإنَّه تركه لمقصد سيبيِّنه.

وتأمَّل هذا الاحتراز العجيب؛ فإنَّ كلَّ ممقوتٍ عند الله لا يُطلق عليه ألفاظ التعظيم إلاَّ على وجه إضافتِهِ لأصحابه؛ كما كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا كتب إلى ملوك الأرض المشركين يقول: إلى عظيم الفُرس ... إلى عظيم الروم ... ونحو ذلك ولم يقل: إلى العظيم! وهنا قال تعالى: {إلاَّ كبيراً لهم}، ولم يقل: كبيراً من أصنامهم؛ فهذا ينبغي التنبُّه له والاحتراز من تعظيم ما حقَّره الله؛ إلاَّ إذا أضيفَ إلى من عظَّمه. وقوله: {لعلَّهم إليه يرجِعونَ}؛ أي: ترك إبراهيم تكسير صَنَمِهم هذا لأجل أن يرجعوا إليه، ويستملوا حجَّته، ويلتفِتوا إليها، ولا يُعْرِضوا عنها، ولهذا قال في آخرها: {فرجَعوا إلى أنفسهم}.