تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 57

وَ تَاللّٰہِ لَاَکِیۡدَنَّ اَصۡنَامَکُمۡ بَعۡدَ اَنۡ تُوَلُّوۡا مُدۡبِرِیۡنَ ﴿۵۷﴾
اور اللہ کی قسم! میں ضرور ہی تمھارے بتوں کی خفیہ تدبیر کروں گا، اس کے بعد کہ تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔ En
اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں سے ایک چال چلوں گا
En
اور اللہ کی قسم! میں تمہارے ان معبودوں کے ساتھ جب تم علیحده پیٹھ پھیر کر چل دو گے ایک چال چلوں گا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چونکہ آپ نے دلیل سے واضح کر دیا تھا کہ ان کے بت کسی تدبیر کا اختیار نہیں رکھتے، اس لیے آپ نے ان کو بالفعل ان کے خود ساختہ معبودوں کی بے بسی اور خود اپنی مدد کرنے پر بے اختیاری کا مشاہدہ کروانے کا ارادہ کیا اور ایسا طریق کار استعمال کیا کہ وہ اپنے معبودوں کی بے بسی اور بے اختیار کا خود اقرار کریں، اس لیے ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا: ﴿وَتَاللّٰهِ لَاَكِیْدَنَّ اَصْنَامَكُمْ یعنی تمھیں لاجواب کرنے کے لیے چال کے طور پر میں ان بتوں کو توڑ دوں گا ﴿ بَعْدَ اَنْ تُوَلُّوْا مُدْبِرِیْنَ جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے۔ یعنی جب اپنی کوئی عید منانے کے لیے چلے جاؤ گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ولما بيَّن أنَّ أصنامَهم ليس لها من التدبير شيءٌ؛ أراد أن يُرِيَهم بالفعل عجزها وعدم انتصارها، وليكيد كيداً يحصُلُ به إقرارُهم بذلك؛ فلهذا قال: {وتاللهِ لأكيدنَّ أصنامَكم}؛ أي: أكسرها على وجه الكيد، {بعدَ أن تُوَلُّوا مدبِرينَ}: عنها، إلى عيدٍ من أعيادهم.