تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ {اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ:” كَبِيْرًا “} نکرہ ہے، سوائے ان کے ایک بڑے کے۔ معلوم ہوا کہ ان کے بڑے بت کئی تھے، مگر ابراہیم علیہ السلام نے ایک بڑے کے سوا چھوٹے بڑے تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس کی تائید آئندہ آیت(۶۳) {” قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ كَبِيْرُهُمْ “} سے بھی ہوتی ہے کہ ”یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا ہے۔“ معلوم ہوا کہ اس بڑے کے سوا اور بھی بڑے بت تھے جو اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے۔ (بقاعی) جو لوگ اسے ان کے سب بتوں سے بڑا بت قرار دیتے ہیں قرآن کے الفاظ ان کا ساتھ نہیں دیتے۔
➌ ”سوائے ان کے ایک بڑے کے“ سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں یا ان کے معبودوں کو ”کبیر“ نہیں فرمایا، ہاں ”ان کے ہاں کبیر“ فرمایا ہے، کیونکہ وہ اسے کبیر مانتے تھے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت کا خط بھیجتے ہوئے لکھا: [اِلٰی هِرَقْلَ عَظِيْمِ الرُّوْمِ] دیکھیے ہرقل کو صرف رومیوں کے ہاں عظیم فرمایا ہے، کافر کو مطلقاً عظیم نہیںـ فرمایا۔ (سعدی)
➍ { لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ:} ان کے ایک بڑے بت کو کچھ نہیں کہا، تاکہ جب وہ سب بتوں کو ٹوٹا ہوا اور اسے صحیح سلامت دیکھیں تو اس سے پوچھیں کہ جناب آپ کے غصے کا باعث کیا ہوا کہ آپ نے ان سب خداؤں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اگر آپ نے یہ کام نہیں کیا تو آپ کے ہوتے ہوئے کوئی ظالم یہ کام کیسے کر گیا؟ ایک معنی اس کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے ایک بڑے کے سوا تمام بت ٹکڑے ٹکڑے کر دیے کہ وہ لوگ جب یہ ماجرا دیکھیں گے تو فوراً ان کا ذہن ابراہیم علیہ السلام ہی کی طرف جائے گا، پھر جب وہ ان سے پوچھیں گے تو انھیں شرک کی تردید کا بہترین موقع مل جائے گا۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ ”جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لیے باہر جاؤ گے، میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا۔“ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہو جائے۔
جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، ”تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کر دوں گا۔“ آپ علیہ السلام نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ علیہ السلام اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ علیہ السلام نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کر دیا۔
جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ «فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ» ۱؎ [37-الصفات:93] ’ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ‘۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت ومصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کر دیا ہوگا؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے؟
چنانچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا، جیسے کہ مروی ہے۔
جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں، اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بے جان، بے نفع و نقصان، ذلیل و حقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بے وقوفی پر وہ مہر لگا رہے تھے۔ لیکن ان بے وقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے، یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی؟ اس وقت جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آ گیا اور کہنے لگے، وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم (علیہ السلام) ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے، جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ ۱؎ [ضعیف]
شان الٰہی دیکھئیے جو مقصد خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا، وہ اب پورا ہو رہا ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلما تَوَلَّوا مدبرين؛ ذَهَبَ إليها بِخفيةٍ، {فَجَعَلَهُمْ جُذاذاً}؛ أي: كِسَراً وقطعاً، وكانت مجموعةً في بيت واحدٍ فكسَّرها كلَّها، {إلاَّ كبيراً لهم}؛ أي: إلاَّ صنمهم الكبير؛ فإنَّه تركه لمقصد سيبيِّنه.
وتأمَّل هذا الاحتراز العجيب؛ فإنَّ كلَّ ممقوتٍ عند الله لا يُطلق عليه ألفاظ التعظيم إلاَّ على وجه إضافتِهِ لأصحابه؛ كما كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا كتب إلى ملوك الأرض المشركين يقول: إلى عظيم الفُرس ... إلى عظيم الروم ... ونحو ذلك ولم يقل: إلى العظيم! وهنا قال تعالى: {إلاَّ كبيراً لهم}، ولم يقل: كبيراً من أصنامهم؛ فهذا ينبغي التنبُّه له والاحتراز من تعظيم ما حقَّره الله؛ إلاَّ إذا أضيفَ إلى من عظَّمه. وقوله: {لعلَّهم إليه يرجِعونَ}؛ أي: ترك إبراهيم تكسير صَنَمِهم هذا لأجل أن يرجعوا إليه، ويستملوا حجَّته، ويلتفِتوا إليها، ولا يُعْرِضوا عنها، ولهذا قال في آخرها: {فرجَعوا إلى أنفسهم}.