ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 58

فَجَعَلَہُمۡ جُذٰذًا اِلَّا کَبِیۡرًا لَّہُمۡ لَعَلَّہُمۡ اِلَیۡہِ یَرۡجِعُوۡنَ ﴿۵۸﴾
پس اس نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے، تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں۔ En
پھر ان کو توڑ کر ریزہ ریزہ کردیا مگر ایک بڑے (بت) کو (نہ توڑا) تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں
En
پس اس نے ان سب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے ہاں صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا یہ بھی اس لئے کہ وه سب اس کی طرف ہی لوٹیں En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 58) ➊ { فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا: جُذٰذًا جَذَّ يَجُذُّ} (قطع کرنا اور ریزہ ریزہ کرنا) میں سے{ فُعَالٌ} بمعنی مفعول ({مَجْذُوْذٌ}) ہے، یعنی ریزہ ریزہ، ٹکڑے ٹکڑے۔ اسی کے ہم وزن اور ہم معنی {حُطَامٌ} اور {فُتَاتٌ} ہیں۔ ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگ اپنے خاص جشن کے موقع پر گھروں سے باہر نکلتے اور سارا دن جشن مناتے، چنانچہ انھوں نے ابراہیم علیہ السلام کو بھی اپنے ساتھ چلنے کی دعوت دی مگر انھوں نے بیماری کا عذر کر لیا۔ (صافات: ۸۸ تا ۹۰) ابراہیم علیہ السلام موقع پا کر بت خانے کے اندر داخل ہو گئے، پہلے ان سے کچھ خطاب کیا، جس کا تذکرہ سورۂ صافات میں ہے، جواب نہ پا کر پوری قوت سے انھیں توڑنا شروع کر دیا اور ایک کے سوا سب کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ یہاں اکثر مفسرین نے لکھا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے سب کو توڑ کر کلہاڑا بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا، مگر یہ محض اسرائیلی روایت ہے، قرآن یا حدیث میں اس کا کہیں ذکر نہیں۔ پھر پتھر کے بت توڑنے کے لیے کلہاڑے کے بجائے ہتھوڑا استعمال ہوتا ہے۔ ہاں اگر لکڑی کے بت ہوں تو الگ بات ہے۔ اللہ بہتر جانتا ہے ابراہیم علیہ السلام نے ان بتوں کو کیسے ٹکڑے ٹکڑے کیا اور اس کے لیے صرف ایک ہتھیار استعمال کیا یا جس جس اوزار کی ضرورت تھی سب استعمال فرمائے۔
➋ {اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ: كَبِيْرًا } نکرہ ہے، سوائے ان کے ایک بڑے کے۔ معلوم ہوا کہ ان کے بڑے بت کئی تھے، مگر ابراہیم علیہ السلام نے ایک بڑے کے سوا چھوٹے بڑے تمام بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اس کی تائید آئندہ آیت(۶۳) { قَالَ بَلْ فَعَلَهٗ كَبِيْرُهُمْ } سے بھی ہوتی ہے کہ یہ کام ان کے اس بڑے نے کیا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس بڑے کے سوا اور بھی بڑے بت تھے جو اپنے انجام کو پہنچ چکے تھے۔ (بقاعی) جو لوگ اسے ان کے سب بتوں سے بڑا بت قرار دیتے ہیں قرآن کے الفاظ ان کا ساتھ نہیں دیتے۔
سوائے ان کے ایک بڑے کے سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکوں یا ان کے معبودوں کو کبیر نہیں فرمایا، ہاں ان کے ہاں کبیر فرمایا ہے، کیونکہ وہ اسے کبیر مانتے تھے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت کا خط بھیجتے ہوئے لکھا: [اِلٰی هِرَقْلَ عَظِيْمِ الرُّوْمِ] دیکھیے ہرقل کو صرف رومیوں کے ہاں عظیم فرمایا ہے، کافر کو مطلقاً عظیم نہیںـ فرمایا۔ (سعدی)
➍ { لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ:} ان کے ایک بڑے بت کو کچھ نہیں کہا، تاکہ جب وہ سب بتوں کو ٹوٹا ہوا اور اسے صحیح سلامت دیکھیں تو اس سے پوچھیں کہ جناب آپ کے غصے کا باعث کیا ہوا کہ آپ نے ان سب خداؤں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور اگر آپ نے یہ کام نہیں کیا تو آپ کے ہوتے ہوئے کوئی ظالم یہ کام کیسے کر گیا؟ ایک معنی اس کا یہ بھی ہو سکتا ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے ایک بڑے کے سوا تمام بت ٹکڑے ٹکڑے کر دیے کہ وہ لوگ جب یہ ماجرا دیکھیں گے تو فوراً ان کا ذہن ابراہیم علیہ السلام ہی کی طرف جائے گا، پھر جب وہ ان سے پوچھیں گے تو انھیں شرک کی تردید کا بہترین موقع مل جائے گا۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

58۔ 1 چناچہ وہ جس دن اپنی عید یا کوئی جشن مناتے تھے، ساری قوم اس کے لئے باہر چلی گئی اور ابراہیم ؑ نے موقع غنیمت جان کر انھیں توڑ پھوڑ کر رکھ دیا صرف ایک بڑا بت چھوڑ دیا، بعض کہتے ہیں کہ کلہاڑی اس کے ہاتھ میں پکڑا دی تاکہ وہ اس سے پوچھیں۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

58۔ چنانچہ بڑے بت کو چھوڑ کر باقی سب بتوں کو ابراہیم نے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا تاکہ وہ اس (بڑے بت) [52] کی طرف رجوع کریں۔
[52] سیدنا حضرت ابراہیمؑ بتوں کو توڑنا:۔
حضرت ابراہیمؑ کی قوم سیارہ پرست لوگ تھے۔ اور انسانی زندگی پر سیاروں کے اثرات کے انتہائی معتقد تھے۔ انھیں سیاروں مثلاً سورج، چاند، زہرہ، عطارد، مشتری، مریخ اور زحل وغیرہ کی ارواح کی ایک مخصوص شکل انہوں نے متعین کر رکھی تھی۔ اور اسی شکل کے مجسمے بنائے جاتے تھے۔ جن کی یہ لوگ پوجا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیمؑ نے اپنی ہوش مندی کی ابتداء میں پہلا تجربہ اپنی ذات پر کیا تھا اور دیکھا تھا کہ یہ سیارے یہ چاند اور یہ سورج کیا میری زندگی پر کچھ اثر انداز ہوتے ہیں یا نہیں۔ اور تجربہ نے انھیں یہی بتلایا تھا کہ ایسی باتیں سب انسانی توہمات ہیں۔ اسی بنا پر قلبی یقین کے ساتھ وہ اپنی قوم سے مجادلہ اور و قابلہ پر اتر آئے تھے۔ ان لوگوں کو جشن نوروز اس دن ہوتا تھا جب سورج برج حمل میں داخل ہوتا تھا اور آج کل کے حساب سے یہ دن یکم اپریل کا دن بنتا ہے اور یہ موسم بہار ہوتا ہے اور معتدل موسم ہوتا ہے۔ جشن نوروز پر جب سب لوگ جانے لگے تو پہلے اپنے بتوں کے سامنے نذر و نیاز کی مٹھائیاں رکھیں۔ پھر بت خانہ کو جانے لگے تو حضرت ابراہیمؑ کو بھی اس میلہ میں شمولیت کی دعوت دی تو آپؑ نے آسمان کی طرف نگاہ دوڑائی جیسے سیاروں کی چال دیکھ رہے ہوں اور کہہ دیا کہ میں تو بیمار ہونے والا ہوں لہٰذا مجھے ساتھ لے جا کر اپنے رنگ میں بھنگ نہ ڈالو۔ اور مجھے یہیں رہنے دو۔ حضرت ابراہیمؑ نے سیاروں کی طرف نگاہ اس لئے نہیں کی تھی کہ آپ ان کے اثرات پر یقین رکھتے تھے جبکہ اس لئے دورائی تھی کہ آپ کی ستارہ پرست قوم آپ کے اس عذر کو معقول سمجھ لے۔ جب یہ سب لوگ میلہ پر چلے گئے تو حضرت ابراہیمؑ کے لئے یہی سنہری موقع تھا۔ آپ نے ایک تبر یا کلہاڑا لیا بت خانہ کا دروازہ کھولا اور ان کے بتوں کو مار مار کر ان کے ٹکرے ٹکڑے کر دیئے۔ البتہ بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اور کلہاڑا اس کے کندھے پر رکھ دیا تاکہ یہ معلوم ہو کہ یہ سب کارستانی اس بڑے بت کی ہے۔ آیت کے الفاظ ہیں: ﴿لَعَلَّهُمْ اِلَيْهِ يَرْجِعُوْنَ (تاکہ وہ لوگ اس کی طرف رجوع کریں) ﴿اليه﴾ کی ضمیر اس بڑے بت کی طرف بھی ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ ترجمہ سے ظاہر ہے اور حضرت ابراہیمؑ کے بڑے بت کے کندھے پر کلہاڑا رکھنے سے بھی ان کا اپنا یہی مقصود تھا نیز یہ لوگ سخت مشکل کے وقت بڑے بت ہی کی طرف رجوع کرتے تھے اور ﴿اليه﴾ کی ضمیر خود حضرت ابراہیمؑ کی طرف بھی ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ مابعد کی دو آیات سے معلوم ہوتا ہے۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

کفر سے بیزاری طبیعت میں اضمحلال پیدا کرتی ہے ٭٭
اوپر ذکر گزرا کہ خلیل اللہ علیہ السلام نے اپنی قوم کو بت پرستی سے روکا، اور جذبہ توحید میں آکر آپ علیہ السلام نے قسم کھا لی کہ میں تمہارے ان بتوں کا ضرور کچھ نہ کچھ علاج کرونگا۔ اسے بھی قوم کے بعض افراد نے سن لیا۔
ان کی عید کا دن جو مقرر تھا، خلیل اللہ علیہ السلام نے فرمایا کہ جب تم اپنی رسوم عید ادا کرنے کے لیے باہر جاؤ گے، میں تمہارے بتوں کو ٹھیک کر دوں گا۔‏‏‏‏ عید کے ایک آدھ دن پیشتر آپ علیہ السلام کے والد نے آپ علیہ السلام سے کہا کہ پیارے بیٹے تم ہمارے ساتھ ہماری عید میں چلو تاکہ تمہیں ہمارے دین کی اچھائی اور رونق معلوم ہو جائے۔
چنانچہ یہ آپ علیہ السلام کو لے چلا، کچھ دور جانے کے بعد ابراہیم علیہ الصلوۃ والتسلیم گر پڑے اور فرمانے لگے، ابا میں بیمار ہو گیا۔ باپ آپ علیہ السلام کو چھوڑ کرمراسم کفر بجا لانے کے لیے آگے بڑھ گئے اور جو لوگ راستے سے گزرتے، آپ علیہ السلام سے پوچھتے، کیا بات ہے راستے پر کیسے بیٹھے ہو؟ جواب دیتے کہ میں بیمار ہوں۔
جب عام لوگ نکل گئے اور بڈھے بڑے لوگ رہ گئے تو آپ علیہ السلام نے فرمایا، تم سب کے چلے جانے کے بعد آج میں تمہارے معبودوں کی مرمت کر دوں گا۔‏‏‏‏ آپ علیہ السلام نے جو فرمایا کہ میں بیمار ہوں تو واقعی آپ علیہ السلام اس دن کے اگلے دن قدرے علیل بھی تھے۔ جب کہ وہ لوگ چلے گئے تو میدان خالی پا کر آپ علیہ السلام نے اپنا ارادہ پورا کیا اور بڑے بت کو چھوڑ کر تمام بتوں کا چورا کر دیا۔
جیسے اور آیتوں میں اس کا تفصیلی بیان موجود ہے کہ «فَرَاغَ عَلَيْهِمْ ضَرْبًا بِالْيَمِينِ» ۱؎ [37-الصفات:93]‏‏‏‏ ’ اپنے ہاتھ سے ان بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے ‘۔ اس بڑے بت کے باقی رکھنے میں حکمت ومصلحت یہ تھی کہ اولاً ان لوگوں کے ذہن میں خیال آئے کہ شاید اس بڑے بت نے ان چھوٹے بتوں کو غارت کر دیا ہوگا؟ کیونکہ اسے غیرت معلوم ہوئی ہوگی کہ مجھ بڑے کے ہوتے ہوئے یہ چھوٹے خدائی کے لائق کیسے ہوگئے؟
چنانچہ اس خیال کی پختگی ان کے ذہنوں میں قائم کرنے کے لیے آپ علیہ السلام نے کلہاڑا بھی اس کی گردن پر رکھ دیا تھا، جیسے کہ مروی ہے۔
جب یہ مشرکین اپنے میلے سے واپس آئے تو دیکھا کہ ان کے سارے معبود منہ کے بل اوندھے گرے ہوئے ہیں، اور اپنی حالت سے وہ بتا رہے ہیں کہ وہ محض بے جان، بے نفع و نقصان، ذلیل و حقیر چیز ہیں۔ اور گویا اپنی اس حالت سے اپنے پجاریوں کی بے وقوفی پر وہ مہر لگا رہے تھے۔ لیکن ان بے وقوفوں پر الٹا اثر ہوا کہنے لگے، یہ کون ظالم شخص تھا جس نے ہمارے معبودوں کی ایسی اہانت کی؟ اس وقت جن لوگوں نے ابراہیم علیہ السلام کا وہ کلام سنا تھا، انہیں خیال آ گیا اور کہنے لگے، وہ نوجوان جس کا نام ابراہیم (‏‏‏‏علیہ السلام) ہے اسے ہم نے اپنے معبودوں کی مذمت کرتے ہوئے سنا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کو پڑھتے اور فرماتے، جو نبی آیا جوان۔ جو عالم بنا جوان۔ ۱؎ [ضعیف]‏‏‏‏
شان الٰہی دیکھئیے جو مقصد خلیل اللہ علیہ صلوات اللہ کا تھا، وہ اب پورا ہو رہا ہے۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

چنانچہ جب وہ وہاں سے چلے گئے تو حضرت ابراہیم علیہ السلام چپکے سے ان بتوں کے پاس گئے ﴿ فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اور ان بتوں کو ریزہ ریزہ کر دیا۔ تمام بت ایک ہی بت خانے میں جمع تھے، اس لیے ا ن سب کو توڑ دیا۔ ﴿ اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ سوائے ان کے بڑے بت کے اور اسے ایک خاص مقصد کے لیے چھوڑ دیا، جسے عنقریب اللہ تعالیٰ بیان فرمائے گا۔
ذرا اس عجیب احتراز پر غور فرمائیے کیونکہ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کے ہاں مغضوب ہے۔ اس پر تعظیم کے الفاظ کا اطلاق صحیح نہیں سوائے اس صورت میں کہ تعظیم کی اضافت تعظیم کرنے والوں کی طرف ہو۔ جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ تھا کہ آپ جب زمین کے مشرک بادشاہوں کی طرف خط لکھتے تو اس طرح مخاطب فرماتے: (الٰی عظیم الفرس او الی عظیم الروم) یعنی اہل فارس کے بڑے کی طرف یا اہل روم کے بڑے کی طرف اور ﴿اِلَی الْعَظِیْمِ یعنی بڑی ہستی کی طرف جیسے الفاظ استعمال نہیں فرمائے۔
یہاں اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا: ﴿ اِلَّا كَبِیْرًا لَّهُمْ ان کے بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ اور یہ نہیں فرمایا:(کبیرا من اصنامھم) ان کے بتوں میں سے بڑے بت کو پس یہ بات اس لائق ہے کہ آدمی اس پر متنبہ رہے اور اس ہستی کی تعظیم سے احتراز کرے جسے اللہ تعالیٰ نے حقیر قرار دیا ہے، البتہ اس تعظیم کی اضافت ان لوگوں کی طرف کی جا سکتی ہے جو اس کی تعظیم کرتے ہیں۔
﴿ لَعَلَّهُمْ اِلَیْهِ یَرْجِعُوْنَ یعنی ابراہیم علیہ السلام نے ان کے اس بڑے بت کو چھوڑ دیا تاکہ وہ اس کی طرف رجوع کریں اور آپ کی حجت و دلیل سے زچ ہو کر اس حجت کی طرف التفات کریں اور اس سے روگردانی نہ کریں اسی لیے آیت کریمہ کے آخر میں فرمایا: ﴿ فَرَجَعُوْۤا اِلٰۤى اَنْفُسِهِمْ پس انھوں نے اپنے دل میں غور کیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما تَوَلَّوا مدبرين؛ ذَهَبَ إليها بِخفيةٍ، {فَجَعَلَهُمْ جُذاذاً}؛ أي: كِسَراً وقطعاً، وكانت مجموعةً في بيت واحدٍ فكسَّرها كلَّها، {إلاَّ كبيراً لهم}؛ أي: إلاَّ صنمهم الكبير؛ فإنَّه تركه لمقصد سيبيِّنه.

وتأمَّل هذا الاحتراز العجيب؛ فإنَّ كلَّ ممقوتٍ عند الله لا يُطلق عليه ألفاظ التعظيم إلاَّ على وجه إضافتِهِ لأصحابه؛ كما كان النبيُّ - صلى الله عليه وسلم - إذا كتب إلى ملوك الأرض المشركين يقول: إلى عظيم الفُرس ... إلى عظيم الروم ... ونحو ذلك ولم يقل: إلى العظيم! وهنا قال تعالى: {إلاَّ كبيراً لهم}، ولم يقل: كبيراً من أصنامهم؛ فهذا ينبغي التنبُّه له والاحتراز من تعظيم ما حقَّره الله؛ إلاَّ إذا أضيفَ إلى من عظَّمه. وقوله: {لعلَّهم إليه يرجِعونَ}؛ أي: ترك إبراهيم تكسير صَنَمِهم هذا لأجل أن يرجعوا إليه، ويستملوا حجَّته، ويلتفِتوا إليها، ولا يُعْرِضوا عنها، ولهذا قال في آخرها: {فرجَعوا إلى أنفسهم}.