تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اس لیے ابراہیم علیہ السلام نے ان تمام لوگوں کو گمراہ قرار دیتے ہوئے فرمایا: ﴿ لَقَدْكُنْتُمْاَنْتُمْوَاٰبَآؤُكُمْفِیْضَلٰ٘لٍمُّبِیْنٍ ﴾ یعنی تم اور تمھارے آباء و اجداد واضح گمراہی میں مبتلا ہو اور کونسی گمراہی ہے جو ان کے شرک میں مبتلا ہونے اور توحید کو ترک کرنے کی گمراہی سے زیادہ بڑی ہو؟ یعنی اس گمراہی کو پکڑے رہنے کے لیے تم نے جو دلیل دی ہے وہ درست نہیں، تم اور تمھارے باپ دادا کھلی گمراہی پر ہو جو ہر ایک پر واضح ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
ولهذا قال لهم إبراهيمُ مضلِّلاً للجميع: {لقد كنتُم أنتم وآباؤكم في ضَلال مبينٍ}؛ أي: ضلال بيِّن واضح، وأيُّ ضلال أبلغُ من ضلالهم في الشرك وترك التوحيد؟! أي: فليس ما قلتُم يصلُحُ للتمسُّك به، وقد اشتركتُم وإياهم في الضَّلال الواضح البيِّن لكلِّ أحدٍ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔