تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 53

قَالُوۡا وَجَدۡنَاۤ اٰبَآءَنَا لَہَا عٰبِدِیۡنَ ﴿۵۳﴾
انھوں نے کہا ہم نے اپنے باپ دادا کو انھی کی عبادت کرنے والے پایا ہے۔ En
وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے
En
سب نے جواب دیا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو انہی کی عبادت کرتے ہوئے پایا En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

تو انھوں نے بغیر کسی حجت اور برہان کے اس شخص کا سا جواب دیا جو عاجز اور بے بس ہو اور جسے ادنیٰ سے بھی شبہ کرنے کا بھی اختیار نہ ہو، چنانچہ انھوں نے کہا: ﴿ وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا ہم نے اپنے آباؤ اجداد کو ایسے ہی کرتے پایا ہم بھی ان کی راہ پر گامزن ہیں اور ان کی پیروی میں ان بتوں کی عبادت کرتے ہیں۔
یہ حقیقت اچھی طرح معلوم ہے کہ انبیاء و مرسلین کے سوا، کسی شخص کا فعل حجت ہے نہ اس کی پیروی ہی کرنا جائز ہے۔ خاص طور پر اصول دین اور توحید الٰہی میں …
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فأجابوا بغير حجَّةٍ جواب العاجز الذي ليس بيده أدنى شبهة، فقالوا: {وجَدْنا آباءنا}: كذلك يفعلونَ فسلكنا سبيلَهم واتَّبعناهم على عبادتها!! ومن المعلوم أنَّ فعل أحدٍ من الخلق سوى الرُّسل ليس بحجَّةٍ ولا تجوز به القدوةُ، خصوصاً في أصل الدين وتوحيد ربِّ العالمين.