تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قَالُوْۤا ﴾ انھوں نے تعجب اور ابراہیم علیہ السلام کے قول پر استفہام کے طور پر کہا، نیز یہ کہ ابراہیم علیہ السلام نے انھیں اور ان کے آباء و اجداد کو بے وقوف قرار دیا تھا۔ ﴿ اَجِئْتَنَابِالْحَقِّاَمْاَنْتَمِنَاللّٰعِبِیْنَ﴾ یعنی کیا وہ بات جو تو نے کہی ہے اور وہ چیز جو تو لے کر آیا ہے، حق ہے؟ یا تیرا ہمارے ساتھ بات کرنا، کسی دل لگی کرنے والے اور تمسخر اڑانے والے کا بات کرنا ہے جو یہ نہیں جانتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟… پس انھوں نے ان دو امور کی بنا پر حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بات کو رد کر دیا، انھوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو اس بنا پر رد کر دیا کہ ان کے ہاں یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ جو کلام حضرت ابراہیم علیہ السلام لے کر آئے ہیں وہ ایک بے وقوف کا کلام ہے، آپ جو بات کہتے ہیں وہ عقل میں نہیں آتی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قالوا}: على وجه الاستغراب لقولِهِ، والاستفهام لما قال، وكيف بادأهم بتسفيههم وتسفيه آبائهم: {أجئتنا بالحقِّ أم أنت من اللاَّعبينَ}؛ أي: هذا القول الذي قُلْتَه والذي جئتنا به: هل هو حقٌّ وُجِدَ، أم كلامُك لنا كلامُ لاعب مستهزئ لا يَدْري ما يقول؟! وهذا الذي أرادوا، وإنما ردَّدوا الكلام بين الأمرين لأنَّهم نزَّلوه منزلة المتقرِّر المعلوم عند كلِّ أحدٍ، أنَّ الكلامَ الذي جاء به إبراهيمُ كلامُ سفيهٍ لا يَعْقِلُ ما يقول.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔