تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 52

اِذۡ قَالَ لِاَبِیۡہِ وَ قَوۡمِہٖ مَا ہٰذِہِ التَّمَاثِیۡلُ الَّتِیۡۤ اَنۡتُمۡ لَہَا عٰکِفُوۡنَ ﴿۵۲﴾
جب اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا کیا ہیں یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو؟ En
جب انہوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم کے لوگوں سے کہا یہ کیا مورتیں ہیں جن (کی پرستش) پر تم معتکف (وقائم) ہو؟
En
جبکہ اس نے اپنے باپ سے اور اپنی قوم سے کہا کہ یہ مورتیاں جن کے تم مجاور بنے بیٹھے ہو کیا ہیں؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ اِذْ قَالَ لِاَبِیْهِ وَقَوْمِهٖ مَا هٰؔذِهِ التَّمَاثِیْلُ جب انھوں نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا، یہ مورتیاں کیا ہیں؟ جن کو تم نے بعض مخلوقات کی صورت پرخود اپنے ہاتھوں سے بنایا اور خود گھڑا ہے ﴿ الَّتِیْۤ اَنْتُمْ لَهَا عٰكِفُوْنَ جن پر تم ان کی عبادت کے لیے قیام اور اس کا التزام کرتے ہو… یہ گھڑے ہوئے پتھر کیا ہیں؟ ان میں کونسی فضیلت ظاہر ہوئی ہے؟ تمھاری عقلیں کہاں چلی گئی ہیں کہ تم نے اپنے اوقات کو ان بتوں کی عبادت میں ضائع کر دیا، حالانکہ تم نے خود ان کو اپنے ہاتھوں سے گھڑا ہے؟ یہ سب سے بڑی تعجب انگیز بات ہے کہ جس چیز کو تم خود اپنے ہاتھوں سے گھڑتے ہو، اس کی عبادت کرتے ہو؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{إذْ قال لأبيه وقومِهِ ما هذه التماثيلُ}: التي مثَّلْتُموها؛ ونَحَتُّموها بأيديكم على صور بعض المخلوقات، {التي أنتُم لها عاكفون}: مقيمون على عبادِتها، ملازِمون لذلك؛ فما هي؟ وأيُّ فضيلة ثبتتْ لها؟ وأين عقولُكم التي ذهبت حتى أفنيتُم أوقاتكم بعبادتها؛ والحالُ أنَّكم مثلْتموها ونحتُّموها بأيديكم؛ فهذا من أكبر العجائب؛ تعبُدون ما تنحِتون؟!