تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 5

بَلۡ قَالُوۡۤا اَضۡغَاثُ اَحۡلَامٍۭ بَلِ افۡتَرٰىہُ بَلۡ ہُوَ شَاعِرٌ ۚۖ فَلۡیَاۡتِنَا بِاٰیَۃٍ کَمَاۤ اُرۡسِلَ الۡاَوَّلُوۡنَ ﴿۵﴾
بلکہ انھوں نے کہا یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں، بلکہ اس نے اسے گھڑ لیا ہے، بلکہ یہ شاعر ہے، پس یہ ہمارے پاس کوئی نشانی لائے جیسے پہلے (رسول) بھیجے گئے تھے۔ En
بلکہ (ظالم) کہنے لگے کہ (یہ قرآن) پریشان (باتیں ہیں جو) خواب (میں دیکھ لی) ہیں۔ (نہیں) بلکہ اس نے اس کو اپنی طرف سے بنا لیا ہے (نہیں) بلکہ (یہ شعر ہے جو اس) شاعر (کا نتیجہٴ طبع) ہے۔ تو جیسے پہلے (پیغمبر نشانیاں دے کر) بھیجے گئے تھے (اسی طرح) یہ بھی ہمارے پاس کوئی نشانی لائے
En
اتنا ہی نہیں بلکہ یہ تو کہتے ہیں کہ یہ قرآن پراگنده خوابوں کا مجموعہ ہے بلکہ اس نے از خود اسے گھڑ لیا ہے بلکہ یہ شاعر ہے، ورنہ ہمارے سامنے یہ کوئی ایسی نشانی ﻻتے جیسے کہ اگلے پیغمبر بھیجے گئے تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اللہ تبارک و تعالیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے قرآن عظیم پر کفار کی بہتان طرازی کا ذکر کرتا ہے کہ وہ قرآن کے بارے میں جھوٹ گھڑتے اور اس کے بارے میں مختلف باطل باتیں پھیلاتے ہیں۔ کبھی کہتے ہیں یہ پراگندہ خواب ہیں ایک سوئے ہوئے شخص کے ہذیانی کلام کی مانند، جسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
کبھی کہتے ہیں یہ اس کا من گھڑت کلام ہے جو اس نے اپنی طرف سے گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کر دیا ہے اور کبھی کہتے ہیں یہ شاعر ہے اور جو قرآن یہ لے کر آیا ہے وہ محض شاعری ہے۔
جو کوئی واقعات اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے احوال کی ادنیٰ سی بھی معرفت رکھتا ہے اور اس کلام میں غور کرتا ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لے کر آئے ہیں وہ ایسے جزم و یقین سے پکار اٹھتا ہے، جس میں ذرہ بھر بھی شک نہیں ہوتا کہ یہ نہایت جلیل القدر اور بلند ترین کلام ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ کوئی بشر اس جیسا کلام پیش کرنے پر قادر نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دشمنوں کے سامنے چیلنج کیا ہے کہ وہ اس کلام کا مقابلہ کر دکھائیں، حالانکہ ان کے اندر قرآن عظیم کی مخالفت اور اس کے ساتھ عداوت کا وافر داعیہ موجود تھا۔ بایں ہمہ وہ اس کلام کا مقابلہ نہ کر سکے اور وہ یہ سب کچھ جانتے ہیں۔ ورنہ وہ کیا چیز تھی جس نے ان کو باز رکھا، ان کو کانٹوں پر لوٹنے پر مجبور کیا اور ان کی زبانوں کو گنگ کر دیا؟… وہ حق کے سوا اور کیا ہو سکتا ہے جس کا کوئی چیز مقابلہ نہیں کر سکتی؟
اور چونکہ وہ اس پر ایمان نہیں رکھتے اس لیے ایسے لوگوں کو، جو اس کی معرفت نہیں رکھتے متنفر کرنے کے لیے اس قسم باتیں کرتے ہیں۔ یہ قرآن عظیم ہمیشہ رہنے والا سب سے بڑا معجزہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی لائی ہوئی ہدایت کی صحت اور آپ کی صداقت پر دلالت کرتا ہے اور یہ کافی و شافی ہے۔ پس جو اس کے علاوہ کوئی اور دلیل طلب کرتا ہے اور اپنی خواہش کے مطابق معجزوں کا مطالبہ کرتا ہے، وہ جاہل اور ظالم ہے اور ان معاندین حق سے مشابہت رکھتا ہے جنھوں نے اس کی تکذیب کی، معجزات کا مطالبہ کیا جو ان کے لیے سب سے زیادہ ضرر رساں چیز ہے اور ان معجزات میں ان کے لیے کوئی بھلائی نہیں کیونکہ اگر ان کا مقصد و ضوح دلیل کے ذریعے سے معرفت حق ہے تو دلیل ان معجزات کے بغیر بھی واضح ہو چکی ہے اور اگر ان کا مقصد عاجز کرنا اور معجزات کا مطالبہ پورا نہ ہونے کی صورت میں اپنے لیے عذر کا جواز پیدا کرنا ہے… تو اس صورت میں بھی جبکہ فرض کر لیا جائے کہ ان کی خواہش کے مطابق معجزہ پیش کر دیا جائے، وہ قطعاً ایمان نہیں لائیں گے۔ پس واقعہ یہ ہے کہ اگر ان کے پاس ہر قسم کا معجزہ ہی کیوں نہ آ جائے تو پھر بھی وہ اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ وہ دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ان کا قول نقل فرمایا: ﴿ فَلْیَاْتِنَا بِاٰیَةٍ كَمَاۤ اُرْسِلَ الْاَوَّلُوْنَ وہ ہمارے پاس ایسی کوئی نشانی لائے جیسے پہلے پیغمبر (ان کے ساتھ) بھیجے گئے۔ جیسے صالح کی اونٹنی اور موسیٰ علیہ السلام کا عصااور اس جیسے معجزات۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

يذكر تعالى ائتفاكَ المكذِّبين بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - وبما جاء به من القرآن العظيم، وأنهم تقوَّلوا فيه ، وقالوا فيه الأقاويل الباطلة المختلفة؛ فتارةً يقولون: أضغاثُ أحلام بمنزلة كلام النائم الهاذي الذي لا يُحِسُّ بما يقول! وتارةً يقولون: افتراهُ واختلقَه وتقوَّله من عند نفسه! وتارةً يقولون: إنَّه شاعرٌ وما جاء به شِعر! وكلُّ مَن له أدنى معرفة بالواقع من حالة الرسول، ونظر في هذا الذي جاء به؛ جزم جزماً لا يقبل الشكَّ أنه أجلُّ الكلام وأعلاه، وأنَّه من عند الله، وأنَّ أحداً من البشر لا يقدِرُ على الإتيان بمثل بعضه؛ كما تحدَّى الله أعداءه بذلك ليعارِضوه مع توفُّر دواعيهم لمعارضته وعداوته، فلم يقدِروا على شيء من معارضته وهم يعلمون ذلك؛ وإلاَّ فما الذي أقامهم وأقعدهم وأقضَّ مضاجعهم وبلبل ألسنتهم إلا الحق الذي لا يقوم له شيء، وإنَّما يقولون هذه الأقوال فيه حيث لم يؤمنوا به؛ تنفيراً عنه لمن لم يعرِفْه، وهو أكبرُ الآيات المستمرَّة الدالَّة على صحَّة ما جاء به الرسول - صلى الله عليه وسلم - وصدقه، وهو كافٍ شافٍ؛ فمن طَلَبَ دليلاً غيره أو اقترح آيةً من الآيات سواه؛ فهو جاهلٌ ظالمٌ مشبهٌ لهؤلاء المعاندين الذين كذَّبوه، وطلبوا من الآيات الاقتراحيَّة ما هو أضرُّ شيء عليهم، وليس لهم فيها مصلحةٌ؛ لأنَّهم إن كان قصدُهم معرفةَ الحقِّ إذا تبيَّن دليلُه؛ فقد تبيَّن دليلُه بدونها، وإن كان قصدُهم التعجيزَ وإقامة العذر لأنفسهم إن لم يأتِ بما طَلَبوا؛ فإنَّهم بهذه الحالة على فرض إتيان ما طلبوا من الآيات لا يؤمنون قطعاً؛ فلو جاءتهم كلُّ آيةٍ لا يؤمنون حتى يروا العذابَ الأليم، ولهذا قال الله عنهم: {فَلْيَأتِنا بآية كما أرْسِلَ الأولون}؛ أي: كناقة صالح وعصا موسى ونحو ذلك.