تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو جھٹلانے والے کفار کے مختلف اقوال ذکر کرکے ثابت کیا کہ یہ خوب جانتے ہیں کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، مگر ضد اور عناد کی وجہ سے اسے ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے سخت بدحواس اور مذبذب ہیں کہ قرآن کو کیا کہہ کر جھٹلائیں۔ کبھی کہتے ہیں کہ یہ خوابوں کی پریشان باتیں ہیں، پھر کہتے ہیں کہ نہیں، بلکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے خود تصنیف کرکے اللہ کے ذمے لگا دیا ہے۔ پھر اس پر تسلی نہیں ہوتی تو کہتے ہیں کہ نہیں، اصل یہ ہے کہ آپ شاعر ہیں اور یہ قرآن آپ کے شاعرانہ تخیل کا نتیجہ ہے۔ سورۂ مدثر (۱۸ تا ۲۵) میں کفار کے ایک کھڑپینچ کی اسی طرح کی پریشان خیالی کا ذکر فرمایا ہے۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کی ایسی تمام باتوں کا جواب دے رکھا تھا کہ اگر تمھیں اس قرآن کے اللہ کا کلام ہونے میں شک ہے تو اس جیسی کتاب بنا کر لے آؤ، یا دس سورتیں بنا کر لے آؤ، چلو! یہ بھی نہیں تو اس جیسی ایک سورت بنا کر لے آؤ۔ اگر یہ بھی نہ کرو اور کر بھی نہیں سکو گے، تو جہنم کی آگ سے ڈر کر اس پر ایمان لے آؤ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن مجید رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عطا کیا گیا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ کفار کے پاس اس کا کوئی جواب نہ اس وقت تھا اور نہ قیامت تک اس کا جواب لا سکتے ہیں۔ مگر وہ ماننے کے لیے تیار ہی نہ تھے، اس لیے کہنے لگے کہ اس معجزے کو دیکھ کر ہم ایمان نہیں لائیں گے، ہمارے پاس تو یہ رسول وہ معجزے لے کر آئے جو پہلے رسولوں کو دیے گئے تھے، مثلاً صالح علیہ السلام کی اونٹنی، موسیٰ علیہ السلام کا عصا، عیسیٰ علیہ السلام کا مردہ کو زندہ کرنا، نابینا کو بینا کرنا وغیرہ۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
[7] یعنی وہ معجزہ کا مطالبہ تو اس طرح کرتے ہیں کہ جیسے وہ ایمان لانے کو بالکل تیار بیٹھے ہیں بس صرف ایک معجزہ دیکھنے کی ہی کسر باقی رہ گئی ہے۔ حالانکہ اقوام سابقہ کی ہلاکت کا سبب ہی یہ بنا تھا کہ انہوں نے معجزہ کا مطالبہ کیا۔ جو انھیں دیا گیا مگر وہ پھر بھی ایمان نہ لائے تھے۔ اب اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ یہ معجزہ دیکھ کر ایمان لے ہی آئیں گے؟ یہ بھی سابقہ اقوام کی طرح اپنی ہلاکت کے درپے ہو چکے ہیں؟
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
پھر کفار کی ضد، ناسمجھی اور کٹ حجتی بیان فرما رہا ہے جس سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خود حیران ہیں۔ کسی بات پر جم نہیں سکتے۔ کبھی کلام اللہ کو جادو کہتے ہیں تو کبھی شاعری کہتے ہیں۔ کبھی پراگندہ اور بے معنی باتیں کہتے ہیں اور کبھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ازخود گھڑلیا ہوا بتاتے ہیں۔
اور آیت میں ہے «انظُرْ كَيْفَ ضَرَبُوا لَكَ الْأَمْثَالَ فَضَلُّوا فَلَا يَسْتَطِيعُونَ سَبِيلًا» ۱؎ [17-الإسراء:48 و 25-الفرقان:9] ’ دیکھیں تو سہی، آپ کے لیے کیا کیا مثالیں بیان کرتے ہیں، پس وه بہک رہے ہیں۔ اب تو راه پانا ان کے بس میں نہیں رہا ‘۔
خیال کرو کہ اپنے کسی قول پر بھروسہ نہ رکھنے والا، جو زبان پر چڑھے بک دینے و الا بھی مستقل مزاج کہلانے کامستحق ہے؟ کبھی کہتے تھے، اچھا اگر یہ سچا نبی ہے تو صالح علیہ السلام کی طرح کوئی اونٹنی لے آتا یا موسیٰ علیہ السلام کی طرح کا کوئی معجزہ دکھاتا یا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی معجزہ ظاہر کرتا۔ «وَمَا مَنَعَنَا أَن نُّرْسِلَ بِالْآيَاتِ إِلَّا أَن كَذَّبَ بِهَا الْأَوَّلُونَ وَآتَيْنَا ثَمُودَ النَّاقَةَ مُبْصِرَةً فَظَلَمُوا بِهَا» [17-الاسراء:59] ’ بیشک اللہ ان چیزوں پر قادر تو ضرور ہے لیکن اگر ظاہر ہوئیں اور پھر بھی یہ اپنے کفر سے نہ ہٹے تو عادت الٰہی کے تحت عذاب الٰہی میں پکڑ لیے جائیں گے اور پیس دئیے جائیں گے۔ عموماً اگلے لوگوں نے یہی کہا اور ایمان نصیب نہ ہوا اور غارت کر دئیے گئے۔ اسی طرح یہ بھی ایسے معجزے طلب کر رہے ہیں۔ اگر ظاہر ہوئے تو ایمان نہ لائیں گے اور تباہ ہوجائینگے ‘۔
جیسے فرمان ہے آیت «اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ وَلَوْ جَاءَتْهُمْ كُلُّ آيَةٍ حَتَّىٰ يَرَوُا الْعَذَابَ الْأَلِيمَ» ۱؎ [10-یونس:97-96] ’ جن پر تیرے رب کی بات ثابت ہو چکی ہے وہ گو تمام تر معجزے دیکھ لیں، ایمان قبول نہ کریں گے۔ ہاں عذاب الیم کے معائنہ کے بعد تو فوراً تسلیم کر لیں گے لیکن وہ محض بے سود ہے ‘۔ بات بھی یہی ہے کہ انہیں ایمان لانا ہی نہ تھا ورنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بےشمار معجزات روز مرہ ان کی نگاہوں کے سامنے تھے۔
ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہا یہ سن کر رونے لگے۔ اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ، اور اس منافق کی فریاد دربار رسالت میں پہنچاؤ۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: { سنو میرے لیے کھڑے نہ ہوا کرو۔ صرف اللہ ہی کے لیے کھڑے ہوا کرو }۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں اس منافق سے بڑی ایذاء پہنچی ہے۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
يذكر تعالى ائتفاكَ المكذِّبين بمحمدٍ - صلى الله عليه وسلم - وبما جاء به من القرآن العظيم، وأنهم تقوَّلوا فيه ، وقالوا فيه الأقاويل الباطلة المختلفة؛ فتارةً يقولون: أضغاثُ أحلام بمنزلة كلام النائم الهاذي الذي لا يُحِسُّ بما يقول! وتارةً يقولون: افتراهُ واختلقَه وتقوَّله من عند نفسه! وتارةً يقولون: إنَّه شاعرٌ وما جاء به شِعر! وكلُّ مَن له أدنى معرفة بالواقع من حالة الرسول، ونظر في هذا الذي جاء به؛ جزم جزماً لا يقبل الشكَّ أنه أجلُّ الكلام وأعلاه، وأنَّه من عند الله، وأنَّ أحداً من البشر لا يقدِرُ على الإتيان بمثل بعضه؛ كما تحدَّى الله أعداءه بذلك ليعارِضوه مع توفُّر دواعيهم لمعارضته وعداوته، فلم يقدِروا على شيء من معارضته وهم يعلمون ذلك؛ وإلاَّ فما الذي أقامهم وأقعدهم وأقضَّ مضاجعهم وبلبل ألسنتهم إلا الحق الذي لا يقوم له شيء، وإنَّما يقولون هذه الأقوال فيه حيث لم يؤمنوا به؛ تنفيراً عنه لمن لم يعرِفْه، وهو أكبرُ الآيات المستمرَّة الدالَّة على صحَّة ما جاء به الرسول - صلى الله عليه وسلم - وصدقه، وهو كافٍ شافٍ؛ فمن طَلَبَ دليلاً غيره أو اقترح آيةً من الآيات سواه؛ فهو جاهلٌ ظالمٌ مشبهٌ لهؤلاء المعاندين الذين كذَّبوه، وطلبوا من الآيات الاقتراحيَّة ما هو أضرُّ شيء عليهم، وليس لهم فيها مصلحةٌ؛ لأنَّهم إن كان قصدُهم معرفةَ الحقِّ إذا تبيَّن دليلُه؛ فقد تبيَّن دليلُه بدونها، وإن كان قصدُهم التعجيزَ وإقامة العذر لأنفسهم إن لم يأتِ بما طَلَبوا؛ فإنَّهم بهذه الحالة على فرض إتيان ما طلبوا من الآيات لا يؤمنون قطعاً؛ فلو جاءتهم كلُّ آيةٍ لا يؤمنون حتى يروا العذابَ الأليم، ولهذا قال الله عنهم: {فَلْيَأتِنا بآية كما أرْسِلَ الأولون}؛ أي: كناقة صالح وعصا موسى ونحو ذلك.