تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 4

قٰلَ رَبِّیۡ یَعۡلَمُ الۡقَوۡلَ فِی السَّمَآءِ وَ الۡاَرۡضِ ۫ وَ ہُوَ السَّمِیۡعُ الۡعَلِیۡمُ ﴿۴﴾
اس نے کہا میرا رب آسمان و زمین میں ہر بات کو جانتا ہے اور وہی سب کچھ سننے والا، سب کچھ جاننے والا ہے۔ En
(پیغمبر نے) کہا کہ جو بات آسمان اور زمین میں (کہی جاتی) ہے میرا پروردگار اسے جانتا ہے۔ اور وہ سننے والا (اور) جاننے والا ہے
En
پیغمبر نے کہا میرا پروردگار ہر اس بات کو جو زمین وآسمان میں ہے بخوبی جانتا ہے، وه بہت ہی سننے واﻻ اور جاننے واﻻ ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔
اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَ رَبِّیْ یَعْلَمُ الْقَوْلَ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِی السَّمَآءِ وَالْاَرْضِ آسمان ا ور زمین میں۔ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَ السَّمِیْعُ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الْعَلِیْمُ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والله تعالى قد أحاط علماً بما تناجَوْا به، وسيُجازيهم عليه، ولهذا قال: {قال ربِّي يعلمُ القولَ}: الخفيَّ والجليَّ {في السماء والأرض}؛ أي: في جميع ما احتوت عليه أقطارهما. {وهو السميعُ}: لسائر الأصوات باختلاف اللُّغات على تفنُّن الحاجات. {العليم}: بما في الضمائر، وأكنَّته السرائر.