تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
اور جو وہ سرگوشیاں کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے لامحدود علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے عنقریب وہ ان کو ان سرگوشیوں کی سزا دے گا۔
اس لیے فرمایا: ﴿قٰلَرَبِّیْیَعْلَمُالْقَوْلَ ﴾ یعنی میرا رب جلی اور خفی ہر بات کو جانتا ہے ﴿ فِیالسَّمَآءِوَالْاَرْضِ﴾”آسمان ا ور زمین میں۔“ یعنی ہر اس جگہ میں جن کو ان دونوں کے کناروں نے گھیر رکھا ہے۔ ﴿ وَهُوَالسَّمِیْعُ ﴾ یعنی لوگوں کی زبانوں کے اختلافات اور ان کی متنوع حاجات کے باوجود ان کی آوازیں سنتا ہے۔ ﴿ الْعَلِیْمُ ﴾ وہ دلوں کے بھید کو بھی جانتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
والله تعالى قد أحاط علماً بما تناجَوْا به، وسيُجازيهم عليه، ولهذا قال: {قال ربِّي يعلمُ القولَ}: الخفيَّ والجليَّ {في السماء والأرض}؛ أي: في جميع ما احتوت عليه أقطارهما. {وهو السميعُ}: لسائر الأصوات باختلاف اللُّغات على تفنُّن الحاجات. {العليم}: بما في الضمائر، وأكنَّته السرائر.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔