تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 46

وَ لَئِنۡ مَّسَّتۡہُمۡ نَفۡحَۃٌ مِّنۡ عَذَابِ رَبِّکَ لَیَقُوۡلُنَّ یٰوَیۡلَنَاۤ اِنَّا کُنَّا ظٰلِمِیۡنَ ﴿۴۶﴾
اور یقینا اگر انھیں تیرے رب کے عذاب کی ایک لپٹ چھو جائے تو ضرور ہی کہیں گے ہائے ہماری بربادی! بلاشبہ ہم ہی ظالم تھے۔ En
اور اگر ان کو تمہارے پروردگار کا تھوڑا سا عذاب بھی پہنچے تو کہنے لگیں کہ ہائے کم بختی ہم بےشک ستمگار تھے
En
اگر انہیں تیرے رب کے کسی عذاب کا جھونکا بھی لگ جائے تو پکار اٹھیں کہ ہائے ہماری بدبختی! یقیناً ہم گنہگار تھے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ وَلَىِٕنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک معمولی سا حصہ ان کو چھو لے ﴿ لَیَقُوْلُ٘نَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰ٘لِمِیْنَ تو پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! ہم تو ظالم تھے۔ یعنی وہ اپنی ہلاکت اور موت ہی کو پکاریں گے اور ان کی پکار اپنی ندامت کا اظہار اور اپنے ظلم، کفر اور استحقاق عذاب ہی کا اعتراف ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلو مسَّهم {نفحةٌ من عذاب ربِّك}؛ أي: ولو جزءٌ يسيرٌ ولا يسير من عذابِهِ؛ {لَيقولُنَّ يا ويْلَنا إنا كنَّا ظالمينَ}؛ أي: لم يكن قولهم إلاَّ الدُّعاءَ بالويل والثُّبور والندم والاعتراف بظُلْمِهِم وكفرِهم واستحقاقِهِم العذاب.