تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَىِٕنْمَّسَّتْهُمْنَفْحَةٌمِّنْعَذَابِرَبِّكَ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک معمولی سا حصہ ان کو چھو لے ﴿ لَیَقُوْلُ٘نَّیٰوَیْلَنَاۤاِنَّاكُنَّاظٰ٘لِمِیْنَ ﴾”تو پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! ہم تو ظالم تھے۔“ یعنی وہ اپنی ہلاکت اور موت ہی کو پکاریں گے اور ان کی پکار اپنی ندامت کا اظہار اور اپنے ظلم، کفر اور استحقاق عذاب ہی کا اعتراف ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلو مسَّهم {نفحةٌ من عذاب ربِّك}؛ أي: ولو جزءٌ يسيرٌ ولا يسير من عذابِهِ؛ {لَيقولُنَّ يا ويْلَنا إنا كنَّا ظالمينَ}؛ أي: لم يكن قولهم إلاَّ الدُّعاءَ بالويل والثُّبور والندم والاعتراف بظُلْمِهِم وكفرِهم واستحقاقِهِم العذاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔