(آیت 46) ➊ { وَلَىِٕنْمَّسَّتْهُمْنَفْحَةٌ …: ”نَفْحَةٌ“} کسی چیز کا ایک دفعہ کا تھوڑا سا حصہ، مثلاً ہوا کا ہلکا سا جھونکا، آگ یا گرمی کی معمولی سی لپٹ، خوشبو کی ہلکی سی لپٹ۔یعنی آج تو یہ لوگ تکبر کی وجہ سے بہرے ہو رہے ہیں مگر جلد ہی ان کی یہ حالت بدل جائے گی اور عذاب کا تو ذکر ہی کیا، اگر صرف ایک مرتبہ اس کی ذرا سی لپٹ انھیں چھو بھی گئی تو ساری شیخی ختم ہو جائے گی اور واویلا کرنے لگیں گے، مگر اس وقت چیخ پکار کچھ فائدہ نہ دے گی۔ کفار کا عذاب دیکھتے ہی اپنے ظالم ہونے کا اقرار قرآن مجید میں کئی جگہ مذکور ہے۔ دیکھیے سورۂ مومن (۸۴، ۸۵)۔ ➋ ہلکے سے ہلکے عذاب سے ان کی یہ حالت ہونے کی تصویر کشی کے لیے تین مبالغے استعمال کیے گئے۔ لفظ{ ”مَسّ“ } (چھونا) اور {”نَفْحَةٌ“} کا لفظ، جس کا معنی کسی بھی چیز کا کم از کم ہونا ہے اور {”نَفْحَةٌ“} میں ” تاء “ جو ایک مرتبہ کے مفہوم کو واضح کرتی ہے۔ (زمخشری)
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
46۔ 1 یعنی عذاب کا ایک ہلکا سا چھٹا اور تھوڑا حصہ بھی پہنچے گا تو پکار اٹھیں گے اور اعتراف جرم کرنے لگ جائیں گے۔
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
46۔ اور اگر انھیں تیرے پروردگار کے عذاب کی ایک لپٹ بھی چھو جائے تو فوراً بول اٹھیں۔ افسوس! یقیناً ہم ہی ظالم تھے۔
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ وَلَىِٕنْمَّسَّتْهُمْنَفْحَةٌمِّنْعَذَابِرَبِّكَ﴾ یعنی اگر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا ایک معمولی سا حصہ ان کو چھو لے ﴿ لَیَقُوْلُ٘نَّیٰوَیْلَنَاۤاِنَّاكُنَّاظٰ٘لِمِیْنَ ﴾”تو پکار اٹھیں گے ہائے ہماری کم بختی! ہم تو ظالم تھے۔“ یعنی وہ اپنی ہلاکت اور موت ہی کو پکاریں گے اور ان کی پکار اپنی ندامت کا اظہار اور اپنے ظلم، کفر اور استحقاق عذاب ہی کا اعتراف ہو گی۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
فلو مسَّهم {نفحةٌ من عذاب ربِّك}؛ أي: ولو جزءٌ يسيرٌ ولا يسير من عذابِهِ؛ {لَيقولُنَّ يا ويْلَنا إنا كنَّا ظالمينَ}؛ أي: لم يكن قولهم إلاَّ الدُّعاءَ بالويل والثُّبور والندم والاعتراف بظُلْمِهِم وكفرِهم واستحقاقِهِم العذاب.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔