تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 39

لَوۡ یَعۡلَمُ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا حِیۡنَ لَا یَکُفُّوۡنَ عَنۡ وُّجُوۡہِہِمُ النَّارَ وَ لَا عَنۡ ظُہُوۡرِہِمۡ وَ لَا ہُمۡ یُنۡصَرُوۡنَ ﴿۳۹﴾
کاش! وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا، اس وقت کو جان لیں جب وہ نہ اپنے چہروں سے آگ کو روک سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ En
اے کاش کافر اس وقت کو جانیں جب وہ اپنے مونہوں پر سے (دوزخ کی) آگ کو روک نہ سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں پر سے اور نہ ان کا کوئی مددگار ہوگا
En
کاش! یہ کافر جانتے کہ اس وقت نہ تو یہ کافر آگ کو اپنے چہروں سے ہٹا سکیں گے اور نہ اپنی پیٹھوں سے اور نہ ان کی مدد کی جائے گی En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَوْ یَعْلَمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا کا ش جان لیں کافر یعنی اپنی بری حالت کو ﴿ حِیْنَ لَا یَكُفُّوْنَ عَنْ وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَلَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ کہ جب نہیں روک سکیں گے وہ عذاب کو اپنے چہروں سے اور نہ اپنی پشتوں سے۔ جب عذاب انھیں ہر جانب سے گھیر لے گا اور ہر طرف سے ان پر چھا جائے گا ﴿ وَلَا هُمْ یُنْصَرُوْنَ اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔ یعنی کوئی ان کی مدد کر سکے گا نہ وہ خود کسی کی مدد کر سکیں گے اور نہ کسی سے مدد حاصل کر سکیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلو {يعلم الذين كفروا} حالَهم الشنيعة {حين لا يكفُّون عن وجوههم النار ولا عن ظهورهم}؛ إذ قد أحاطَ بهم من كلِّ جانب، وغَشِيَهم من كلِّ مكان، {ولا هم يُنصَرون}؛ أي: لا ينصرهم غيرُهم؛ فلا نُصِروا، ولا انتصروا.