تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 38

وَ یَقُوۡلُوۡنَ مَتٰی ہٰذَا الۡوَعۡدُ اِنۡ کُنۡتُمۡ صٰدِقِیۡنَ ﴿۳۸﴾
اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب (پورا) ہوگا، اگر تم سچے ہو۔ En
اور کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو (جس عذاب کا) یہ وعید (ہے وہ) کب (آئے گا)؟
En
کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو بتا دو کہ یہ وعده کب ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اسی طرح جو کفار کہتے تھے کہ ﴿۠ مَتٰى هٰؔذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ وہ فریب میں مبتلا ہونے کی وجہ سے یہ بات کہتے تھے کیونکہ ابھی ان کے لیے سزا مقرر نہیں ہوئی تھی اور ان پر عذاب نازل نہیں ہوا تھا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

وكذلك الذين كفروا يقولون: {متى هذا الوعدُ إن كنتُم صادقينَ}: قالوا هذا القول اغتراراً ولما يحقَّ عليهم العقاب وينزلْ بهم العذاب.