تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 40

بَلۡ تَاۡتِیۡہِمۡ بَغۡتَۃً فَتَبۡہَتُہُمۡ فَلَا یَسۡتَطِیۡعُوۡنَ رَدَّہَا وَ لَا ہُمۡ یُنۡظَرُوۡنَ ﴿۴۰﴾
بلکہ وہ ان پر اچانک آئے گی تو انھیں مبہوت کر دے گی، پھر وہ نہ اسے ہٹا سکیں گے اور نہ انھیں مہلت دی جائے گی۔ En
بلکہ قیامت ان پر ناگہاں آ واقع ہوگی۔ اور ان کے ہوش کھو دے گی۔ پھر نہ تو وہ اس کو ہٹا سکیں گے اور نہ ان کو مہلت دی جائے گی
En
(ہاں ہاں!) وعدے کی گھڑی ان کے پاس اچانک آجائے گی اور انہیں ہکا بکا کر دے گی، پھر نہ تو یہ لوگ اسے ٹال سکیں گے اور نہ ذرا سی بھی مہلت دیئے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ بَلْ تَاْتِیْهِمْ بلکہ آ جائے گی ان کے پاس۔ یعنی آگ ﴿ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ اچانک، پس وہ ان کو مبہوت کر دے گی۔ یعنی ناگہاں ان پر ٹوٹ پڑے گی، گھبراہٹ، دہشت اور عظیم خوف انھیں ہکا بکا کر دیں گے۔ ﴿ فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ۠ رَدَّهَا پس وہ اس کو لوٹانے کی طاقت نہیں رکھیں گے۔ کیوں کہ وہ ایسا کرنے سے عاجز اور بہت کمزور ہوں گے۔ ﴿ وَلَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ یعنی ان کو مہلت دے کر ان پر سے عذاب موخر نہیں کیا جائے گا۔ اگر انھیں اپنی اس حالت اور انجام کا علم ہوتا تو کبھی عذاب کے لیے جلدی نہ مچاتے بلکہ عذاب سے بہت زیادہ ڈرتے۔ مگر جب یہ علم ان کے پاس نہ رہا تو انھوں نے اس قسم کی باتیں کیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{بل تأتيهم} النار {بغتةً}: فتبهتُهم من الانزعاج والذعر والخوف العظيم. {فلا يستطيعون ردَّها}: إذ هم أذلُّ وأضعف من ذلك. {ولا هم يُنظَرون}؛ أي: يُمْهَلون فيؤخَّر عنهم العذاب؛ فلو علموا هذه الحالة حقَّ المعرفة؛ لما استعجلوا بالعذاب، ولخافوه أشدَّ الخوف، ولكن لما ترحَّلَ عنهم هذا العلم؛ قالوا ما قالوا.