تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 37

خُلِقَ الۡاِنۡسَانُ مِنۡ عَجَلٍ ؕ سَاُورِیۡکُمۡ اٰیٰتِیۡ فَلَا تَسۡتَعۡجِلُوۡنِ ﴿۳۷﴾
انسان سراسر جلد باز پیدا کیا گیا ہے، میں عنقریب تمھیں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا، سو مجھ سے جلدی کا مطالبہ نہ کرو۔ En
انسان (کچھ ایسا جلد باز ہے کہ گویا) جلد بازی ہی سے بنایا گیا ہے۔ میں تم لوگوں کو عنقریب اپنی نشانیاں دکھاؤں گا تو تم جلدی نہ کرو
En
انسان جلد باز مخلوق ہے۔ میں تمہیں اپنی نشانیاں ابھی ابھی دکھاؤں گا تم مجھ سے جلد بازی نہ کرو En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ یعنی انسان کو جلد باز پیدا کیا گیا ہے، وہ تمام امور میں عجلت پسند ہے اور ان کے وقوع میں جلدی مچاتا ہے۔ اہل ایمان کفار کے لیے عذاب میں جلدی چاہتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ کفار پر عذاب بھیجنے میں دیر کر دی گئی ہے۔ کفار تکذیب و عناد کے ساتھ روگردانی کرتے اور نزول عذاب کے لیے جلدی مچاتے ہیں اور کہتے ہیں: ﴿ مَتٰى هٰؔذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰؔدِقِیْنَ کب ہے یہ (عذاب کا) وعدہ، اگر تم سچے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نہایت حلم کے ساتھ ان کو مہلت دیتا ہے ان کو مہمل نہیں چھوڑتا اور ان کے لیے ایک وقت مقرر کر دیتا ہے۔ ﴿ فَاِذَا جَآءَؔ اَجَلُهُمْ لَا یَسْتَاْخِرُوْنَ۠ سَاعَةً وَّلَا یَسْتَقْدِمُوْنَ۠ (الاعراف:7؍34) جب ان کا وقت مقرر آن پہنچتا ہے تو ان کے لیے ایک گھڑی بھر کی تاخیر ہوتی ہے نہ تقدیم۔
اور اسی لیے فرمایا: ﴿ سَاُورِیْكُمْ اٰیٰتِیْ یعنی جس نے میرے ساتھ کفر کیا اور میری نافرمانی کی میں انھیں اپنے انتقام کا مزا چکھانے میں اپنی نشانیاں دکھاؤں گا ﴿ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ اس لیے اس کی بابت جلدی نہ مچاؤ۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{خُلِقَ الإنسانُ من عَجَل}؛ أي: خُلِق عجولاً، يبادِرُ الأشياء، ويستعجِلُ بوقوعها؛ فالمؤمنون يستعجِلون عقوبة الله للكافرين ويتباطؤونها، والكافرون يتولَّون ويستعجلون بالعذاب تكذيباً وعناداً ويقولون: {متى هذا الوعدُ إن كنتُم صادقينَ}، والله تعالى يُمْهِلُ ولا يُهْمِلُ، ويحلَم ويجعلُ لهم أجلاً مؤقَّتاً، {إذا جاء أجَلُهُم لا يستأخِرونَ ساعةً ولا يستقدِمونَ}. ولهذا قال: {سأريكم آياتي}؛ أي: في انتقامي ممَّن كَفَر بي وعصاني، {فلا تستعجلون}: ذلك.