اور جب تجھے وہ لوگ دیکھتے ہیں جنھوں نے کفر کیا تو تجھے مذاق ہی بناتے ہیں، کیا یہی ہے جو تمھارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے، اور وہ خود رحمان کے ذکر ہی سے منکر ہیں۔
En
اور جب کافر تم کو دیکھتے ہیں تو تم سے استہزاء کرتے ہیں کہ کیا یہی شخص ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر (برائی سے) کیا کرتا ہے حالانکہ وہ خود رحمٰن کے نام سے منکر ہیں
یہ منکرین تجھے جب بھی دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق ہی اڑاتے ہیں کہ کیا یہی وه ہے جو تمہارے معبودوں کا ذکر برائی سے کرتا ہے، اور وه خود ہی رحمٰن کی یاد کے بالکل ہی منکر ہیں
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
یہ ان کے کفر کی شدت کی طرف اشارہ ہے۔ مشرکین جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمسخر اڑاتے اور کہتے: ﴿ اَهٰؔذَاالَّذِیْیَذْكُرُاٰلِهَتَكُمْ﴾ یعنی ان کے زعم کے مطابق یہی ہے جو تمھارے معبودں کی تحقیر کرتا ہے، ان کو سب و شتم اور ان کی مذمت کرتا ہے اور ان کی برائیاں بیان کرتا ہے اس کی پروا کرو نہ اس کی طرف دھیان دو… یہ سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کا استہزاء اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صفات کمال شمار ہوتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ اکمل و افضل ہستی ہیں جس کے فضائل و مکارم میں اخلاص للہ، غیر اللہ کی عبادت کی مذمت اور عبادت کے اصل مقام و مرتبہ کا ذکر شامل ہے۔
ذلت و استہزاء تو ان کفار کے لیے ہے جن میں ہر قسم کے مذموم اخلاق جمع ہیں۔ اگر ان میں صرف یہی عیب ہوتا کہ انھوں نے رب کریم کے ساتھ کفر کیا اور اس کے رسولوں کا انکار کیا تو اس کی وجہ سے ہی وہ مخلوق میں سب سے زیادہ گھٹیا اور رذیل ہوتے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا رحمن کا ذکر کرنا، جو ان کا بلند ترین حال ہے، اس کے ساتھ کفر کرنے والے ہیں کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہیں یا اس پر ایمان لاتے ہیں تو اس کے ساتھ شرک کرتے ہیں، اس لیے جب ان کا ذکر کفر اور شرک ہے تو اس کے بعد ان کے دیگر احوال کیسے ہوں گے؟
اس لیے فرمایا: ﴿ وَهُمْبِذِكْرِالرَّحْمٰنِهُمْكٰفِرُوْنَ ﴾”اور وہ رحمن کے ذکر کے منکر ہیں۔“ یہاں اللہ تعالیٰ کے اسم مبارک (الرحمن) کا ذکر کرنے میں ان کے حال کی قباحت کا بیان ہے، نیز یہ بیان کرنا مقصود ہے کہ وہ رحمن کا کیسے کفر اور شرک کے ساتھ سامنا کرتے ہیں، حالانکہ وہ تمام نعمتیں عطا کرنے والا اور مصائب کو دور کرنے والا ہے، بندوں کے پاس جتنی نعمتیں ہیں وہ اسی کی طرف سے ہیں اور تمام تکلیف کو صرف وہی رفع کرتا ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من شدَّة كفرِهِم؛ فإنَّ المشركين إذا رأوا رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؛ استهزؤوا به وقالوا: {أهذا الذي يَذْكُرُ آلهتَكم}؛ أي: هذا المحتقر بزعمهم، الذي يسبُّ آلهتكم ويذمُّها ويقع فيها؛ أي: فلا تُبالوا به، ولا تحتفلوا به. هذا استهزاؤُهم واحتقارُهم له بما هو من كماله؛ فإنَّه الأكمل الأفضل، الذي من فضائله ومكارمه إخلاصُ العبادة لله، وذمُّ كلِّ ما يُعْبَدُ من دونه وتنقُّصه، وذِكْرُ محلِّه ومكانته، ولكنَّ محلَّ الازدراء والاستهزاء هؤلاء الكفار الذين جَمَعوا كلَّ خُلُقٍ ذميم، ولو لم يكنْ إلاَّ كفرهم بالربِّ وجحدهم لرسلِهِ، فصاروا بذلك من أخس الخلق وأرذلهم، ومع هذا؛ فذِكْرُهم للرحمن الذي هو أعلى حالاتهم كافرون به؛ لأنَّه لا يذكرونه ولا يؤمنون به إلاَّ وهم مشركون؛ فذِكْرُهم كفرٌ وشركٌ؛ فكيف بأحوالهم بعد ذلك؟! ولهذا قال: {وهم بذِكْرِ الرحمن هم كافرونَ}. وفي ذكر اسمه الرحمن هنا بيانٌ لقباحة حالهم، وأنَّهم كيف قابلوا الرحمن ـ مُسْدي النِّعم كلِّها، ودافع النِّقَم، الذي ما بالعبادِ من نعمةٍ إلاَّ منه، ولا يدفع السُّوء إلاَّ هو ـ بالكفر والشرك.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔