تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد
➋ { اَهٰذَا الَّذِيْ يَذْكُرُ اٰلِهَتَكُمْ:} یہ جملہ ان کے ٹھٹھے کی تفسیر ہے، یعنی وہ آپ کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ کیا یہی ہے جو تمھارے معبودوں کا ذکر کرتا ہے؟ ذکر کرنے سے مراد اچھائی سے ذکر کرنا بھی ہوتا ہے اور برائی سے بھی، تعین اس کا حال کے قرینے سے ہوتا ہے، مثلاً کوئی شخص آپ سے آپ کے کسی دوست کے متعلق بیان کرتا ہے کہ وہ آپ کا ذکر کر رہا تھا، تو ظاہر ہے اس کی مراد یہی ہے کہ وہ آپ کی تعریف کر رہا تھا اور اگر آپ کے کسی مخالف کے متعلق بیان کرے کہ وہ آپ کا ذکر کر رہا تھا تو اس سے مراد یہی ہو گی کہ وہ برائی کے ساتھ آپ کا ذکر کر رہا تھا۔ جیسا کہ بت توڑنے والے کو تلاش کرتے ہوئے ابراہیم علیہ السلام کی قوم کے لوگوں نے کہا تھا: «{ سَمِعْنَا فَتًى يَّذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهٗۤ اِبْرٰهِيْمُ }» [الأنبیاء: ۶۰] ”ہم نے ایک جوان کو سنا ہے، وہ ان کا ذکر کرتا ہے، اسے ابراہیم کہا جاتا ہے۔“ {” اَهٰذَا “} (کیا یہی ہے) میں ہمزہ تعجب کے اظہار کے لیے اور {” هٰذَا “} تحقیر کے لیے استعمال ہوا ہے۔
➌ { وَ هُمْ بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ هُمْ كٰفِرُوْنَ:} یعنی ان کے معبودوں کا برائی سے ذکر کرنے پر آپ کا مذاق اڑانا انھیں کس طرح زیب دیتا ہے، جب کہ خود ان کا حال یہ ہے کہ وہ رحمان کے ذکر ہی سے منکر ہیں؟ انھیں اس بے حد رحم والے کا ذکر گوارا نہیں جس نے انھیں پیدا کیا، ان پر انعام فرمایا اور جس اکیلے کے ہاتھ میں ان کا نفع اور ان کا نقصان ہے۔ پھر مذاق کے حق دار یہ لوگ ہیں یا ہمارا رسول؟ {” بِذِكْرِ الرَّحْمٰنِ “} کی تفسیر بعض مفسرین نے قرآن مجید فرمائی ہے کہ «{ اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ }» [الحجر: ۹] یعنی وہ خود رحمان کے نازل کردہ ذکر کے منکر ہیں۔
تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف
تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی
تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم
اور آیت میں ان کے اسی کفر کا بیان کر کے فرمایا گیا ہے آیت «وَإِذَا رَأَوْكَ إِن يَتَّخِذُونَكَ إِلَّا هُزُوًا أَهَـٰذَا الَّذِي بَعَثَ اللَّـهُ رَسُولًا إِن كَادَ لَيُضِلُّنَا عَنْ آلِهَتِنَا لَوْلَا أَن صَبَرْنَا عَلَيْهَا وَسَوْفَ يَعْلَمُونَ حِينَ يَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ أَضَلُّ سَبِيلًا» ۱؎ [25-الفرقان:41-42] یعنی ’ وہ تو کہیے ہم جمے رہے ورنہ اس نے تو ہمیں ہمارے پرانے معبودوں سے برگشتہ کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی۔ خیر انہیں عذاب کے معائنہ سے معلوم ہو جائے گا کہ گمراہ کون تھا؟ ‘ «وَكَانَ الْإِنسَانُ عَجُولًا» ۱؎ [17-الاسراء:11] ’ انسان بڑا ہی جلدباز ہے ‘۔
مجاہد رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں، ”اللہ تعالیٰ نے تمام چیزوں کی پیدائش کے بعد آدم علیہ السلام کو پیدا کرنا شروع کیا۔ شام کے قریب جب ان میں روح پھونکی گئی، سر، آنکھ اور زبان میں جب روح آ گئی تو کہنے لگے، الٰہی مغرب سے پہلے ہی میری پیدائش مکمل ہو جائے۔“
پہلی آیت میں کافروں کی بدبختی کا ذکر کرکے اس کے بعد ہی انسانی عجلت کا ذکر اس حکمت سے ہے کہ گویا کافروں کی سرکشی سنتے ہی مسلمان کا انتقامی جذبہ بھڑک اٹھتا ہے اور وہ جلد بدلہ لینا چاہتا ہے اس لیے کہ انسانی جبلت میں ہی جلدبازی ہے۔ لیکن عادت الٰہی یہ ہے کہ وہ ظالموں کو ڈھیل دیتا ہے۔ پھر جب پکڑتا ہے تو چھوڑتا نہیں۔
اسی لیے فرمایا کہ ’ میں تمہیں اپنی نشانیاں دکھانے والا ہی ہوں کہ عاصیوں پر کس طرح سختی ہوتی ہے۔ میرے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مذاق میں اڑانے والوں کی کس طرح کھال ادھڑتی ہے۔ تم ابھی ہی دیکھ لو گے۔ جلدی نہ مچاؤ، دیر ہے اندھیر نہیں، مہلت ہے بھول نہیں ‘۔
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وهذا من شدَّة كفرِهِم؛ فإنَّ المشركين إذا رأوا رسول الله - صلى الله عليه وسلم -؛ استهزؤوا به وقالوا: {أهذا الذي يَذْكُرُ آلهتَكم}؛ أي: هذا المحتقر بزعمهم، الذي يسبُّ آلهتكم ويذمُّها ويقع فيها؛ أي: فلا تُبالوا به، ولا تحتفلوا به. هذا استهزاؤُهم واحتقارُهم له بما هو من كماله؛ فإنَّه الأكمل الأفضل، الذي من فضائله ومكارمه إخلاصُ العبادة لله، وذمُّ كلِّ ما يُعْبَدُ من دونه وتنقُّصه، وذِكْرُ محلِّه ومكانته، ولكنَّ محلَّ الازدراء والاستهزاء هؤلاء الكفار الذين جَمَعوا كلَّ خُلُقٍ ذميم، ولو لم يكنْ إلاَّ كفرهم بالربِّ وجحدهم لرسلِهِ، فصاروا بذلك من أخس الخلق وأرذلهم، ومع هذا؛ فذِكْرُهم للرحمن الذي هو أعلى حالاتهم كافرون به؛ لأنَّه لا يذكرونه ولا يؤمنون به إلاَّ وهم مشركون؛ فذِكْرُهم كفرٌ وشركٌ؛ فكيف بأحوالهم بعد ذلك؟! ولهذا قال: {وهم بذِكْرِ الرحمن هم كافرونَ}. وفي ذكر اسمه الرحمن هنا بيانٌ لقباحة حالهم، وأنَّهم كيف قابلوا الرحمن ـ مُسْدي النِّعم كلِّها، ودافع النِّقَم، الذي ما بالعبادِ من نعمةٍ إلاَّ منه، ولا يدفع السُّوء إلاَّ هو ـ بالكفر والشرك.