تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 29

وَ مَنۡ یَّقُلۡ مِنۡہُمۡ اِنِّیۡۤ اِلٰہٌ مِّنۡ دُوۡنِہٖ فَذٰلِکَ نَجۡزِیۡہِ جَہَنَّمَ ؕ کَذٰلِکَ نَجۡزِی الظّٰلِمِیۡنَ ﴿٪۲۹﴾
اور ان میں سے جو یہ کہے کہ میں اس کے سوا معبود ہوں تو یہی ہے جسے ہم جہنم کی جزا دیں گے۔ ایسے ہی ہم ظالموں کو جزا دیتے ہیں۔ En
اور جو شخص ان میں سے یہ کہے کہ خدا کے سوا میں معبود ہوں تو اسے ہم دوزخ کی سزا دیں گے اور ظالموں کو ہم ایسی ہی سزا دیا کرتے ہیں
En
ان میں سے اگر کوئی بھی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں ﻻئق عبادت ہوں تو ہم اسے دوزخ کی سزا دیں ہم ﻇالموں کو اسی طرح سزا دیتے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے واضح فرما دیا کہ الوہیت میں ان (فرشتوں) کا کوئی حق نہیں اور نہ وہ عبودیت ہی کا کوئی استحقاق رکھتے ہیں کیونکہ وہ ایسی صفات سے متصف ہیں جو عدم استحقاق کا تقاضا کرتی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ بھی ذکر فرمایا دیا کہ الوہیت میں ان کا کوئی حصہ بھی نہیں اور نہ مجرد دعویٰ سے الوہیت کا استحقاق ہی ثابت ہوتا ہے اور ان میں سے جو کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے کہ ﴿ اِنِّیْۤ اِلٰ٘هٌ مِّنْ دُوْنِهٖ کہ میں اللہ کے سوا معبود ہوں یعنی فرض کیا اگر ان میں سے کوئی یہ دعویٰ کرتا ہے ﴿ فَذٰلِكَ نَجْزِیْهِ جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِی الظّٰلِمِیْنَ تو ہم اس کو جہنم کی سزا دیں گے، اسی طرح ہم ظالموں کو جزاء دیتے ہیں۔ اور اس سے بڑا اور کونسا ظلم ہو سکتا ہے کہ ایک ناقص مخلوق جو ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی محتاج ہے، خصائص الوہیت و ربوبیت میں اللہ تعالیٰ کی شریک ہونے کا دعویٰ کرے؟
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

فلما بيَّن أنَّه لا حقَّ لهم في الألوهيَّة، ولا يستحقُّون شيئاً من العبوديَّة بما وصفهم به من الصِّفات المقتضية لذلك؛ ذكر أيضاً أنَّه لا حظَّ لهم ولا بمجرَّد الدَّعوى، وأنَّ مَنْ قال منهم: إنِّي إلهٌ من دون الله على سبيل الفرض والتنزل. {فذلك نَجْزيه جَهَنَّم كذلك نجزي الظَّالمين}: وأيُّ ظلم أعظمُ من ادِّعاء المخلوق الناقص الفقير إلى الله من جميع الوجوه مشارَكَتَهُ الله في خصائص الإلهيَّة والربوبيَّة؟!