تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 28

یَعۡلَمُ مَا بَیۡنَ اَیۡدِیۡہِمۡ وَ مَا خَلۡفَہُمۡ وَ لَا یَشۡفَعُوۡنَ ۙ اِلَّا لِمَنِ ارۡتَضٰی وَ ہُمۡ مِّنۡ خَشۡیَتِہٖ مُشۡفِقُوۡنَ ﴿۲۸﴾
وہ جانتا ہے جو ان کے سامنے ہے اور جو ان کے پیچھے ہے اور وہ سفارش نہیں کرتے مگر اسی کے لیے جسے وہ پسند کرے اور وہ اسی کے خوف سے ڈرنے والے ہیں۔ En
جو کچھ ان کے آگے ہوچکا ہے اور پیچھے ہوگا وہ سب سے واقف ہے اور وہ (اس کے پاس کسی کی) سفارش نہیں کرسکتے مگر اس شخص کی جس سے خدا خوش ہو اور وہ اس کی ہیبت سے ڈرتے رہتے ہیں
En
وه ان کے آگے پیچھے تمام امور سے واقف ہے وه کسی کی بھی سفارش نہیں کرتے بجز ان کے جن سے اللہ خوش ہو وه تو خود ہیبت الٰہی سے لرزاں وترساں ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور اس کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے علم نے ان کا احاطہ کر رکھا ہے۔ ﴿ یَعْلَمُ مَا بَیْنَ اَیْدِیْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ یعنی اللہ تعالیٰ ان کے ماضی اور مستقبل کے تمام معاملات کا علم رکھتا ہے، وہ اس کے احاطۂ علم سے اسی طرح باہر نہیں نکل سکتے جیسے وہ اس کے دائرۂ امروتدبیر سے باہر قدم نہیں رکھ سکتے۔ ان کے اوصاف میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کسی بات میں اللہ تعالیٰ سے سبقت نہیں کر سکتے اور نہ اس کی اجازت اور رضا مندی کے بغیر کسی کی سفارش کر سکتے ہیں، اس لیے جب االلہ تعالیٰ ان کو اجازت دیتا ہے اور جس کے بارے میں وہ سفارش کرنا چاہتے ہیں اس سے اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے، تب وہ سفارش کرتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ صرف اسی قول و عمل سے راضی ہوتا ہے جو خالص اسی کی رضا کے لیے اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں کیا گیا ہو… یہ آیت کریمہ شفاعت کے اثبات پر دلالت کرتی ہے، نیز اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ فرشتے شفاعت کریں گے۔
﴿ وَهُمْ مِّنْ خَشْیَتِهٖ مُشْفِقُوْنَ یعنی وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں، اس کے جلال کے سامنے سرنگوں اور اس کے غلبہ و جمال کے سامنے سرافگندہ ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ومع هذا؛ فالله قد أحاط بهم علمه، فعلم {ما بينَ أيديهم وما خلفهم}؛ أي: أمورهم الماضية والمستقبلة؛ فلا خروج لهم عن علمه؛ كما لا خروج لهم عن أمره وتدبيره، ومن جزئيَّات وصفهم بأنهم لا يسبقونه بالقول أنَّهم لا يشفعون لأحد بدون إذنه ورضاه؛ فإذا أذِنَ لهم وارتضى مَنْ يشفعون فيه شفعوا فيه؛ ولكنه تعالى لا يرضى من القول والعمل إلاَّ ما كان خالصاً لوجهه متَّبعاً فيه الرسول.

وهذه الآية من أدلَّة إثبات الشفاعة، وأنَّ الملائكة يشفعون. {وهم من خشيتِهِ مشفِقونَ}؛ أي: خائفون وجلون، قد خَضَعوا لجلالِهِ، وعَنَتْ وجوهُهم لعزِّه وجماله.