تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 30

اَوَ لَمۡ یَرَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ کَانَتَا رَتۡقًا فَفَتَقۡنٰہُمَا ؕ وَ جَعَلۡنَا مِنَ الۡمَآءِ کُلَّ شَیۡءٍ حَیٍّ ؕ اَفَلَا یُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۳۰﴾
اور کیا جن لوگوں نے کفر کیا یہ نہیں دیکھا کہ سارے آسمان اور زمین آپس میں ملے ہوئے تھے تو ہم نے انھیں پھاڑ کر الگ کیا اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز بنائی، تو کیا یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ En
کیا کافروں نے نہیں دیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں ملے ہوئے تھے تو ہم نے جدا جدا کردیا۔ اور تمام جاندار چیزیں ہم نے پانی سے بنائیں۔ پھر یہ لوگ ایمان کیوں نہیں لاتے؟
En
کیا کافر لوگوں نے یہ نہیں دیکھا کہ آسمان وزمین باہم ملے جلے تھے پھر ہم نے انہیں جدا کیا اور ہر زنده چیز کو ہم نے پانی سے پیدا کیا، کیا یہ لوگ پھر بھی ایمان نہیں ﻻتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

کیا ان لوگوں نے… جنھوں نے اپنے رب سے کفر کیا اور عبودیت کو اس کے لیے خالص کرنے سے انکار کیا… ان نشانیوں کو نہیں دیکھا جو عیاں طور پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی رب محمود و کریم اور معبود ہے۔ وہ زمین و آسمان کا مشاہدہ کرتے ہیں وہ ان کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا پاتے ہیں، آسمان میں کوئی بادل ہوتا ہے نہ بارش، زمین مردہ اور بنجر دکھائی دیتی ہے، بے آب و گیاہ، پھر ہم دونوں کو جدا کر دیتے ہیں، آسمان کو پانی کے ذریعے سے اور زمین کو نباتات کے ذریعے سے۔
کیا وہ ہستی جو آسمان پر بادل وجود میں لائی تھی جبکہ آسمان بالکل صاف تھا کہیں بادل کا ٹکڑا نظر نہیں آتا تھا، پھر اس نے اس میں بہت سا پانی ودیعت کیا، پھر وہ ہستی اس بادل کو ایک ایسی مردہ زمین پر لے گئی جہاں پانی کی نایابی کی وجہ سے اس کے کناروں تک خاک اڑتی تھی۔ پس اس نے اس مردہ زمین میں بارش برسائی اور وہ لہلہا اٹھی، حرکت کرنے اور بڑھنے لگی اور اس نے مختلف انواع اور متعدد فوائد کی خوشنما نباتات اگائی۔ کیا یہ سب کچھ اس بات کی دلیل نہیں کہ صرف وہی حق ہے اور اس کے سوا سب باطل ہے، وہی مردوں کو زندہ کرے گا، وہی رحمن و رحیم ہے؟
اس لیے فرمایا ﴿ اَفَلَا یُؤْمِنُوْنَ یعنی کیا وہ صحیح طور پر ایمان نہیں لاتے جس میں کوئی شک ہو نہ شرک۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: أولم ينظُر هؤلاء الذين كفروا بربِّهم، وجَحَدوا الإخلاص له في العبوديَّة ما يدلُّهم دلالةَ مشاهدةٍ على أنه الربُّ المحمود الكريم المعبود، فيشاهدون السماء والأرض، فيجدونهما {رتقاً}؛ هذه ليس فيها سحابٌ ولا مطرٌ، وهذه هامدةٌ ميتةٌ لا نبات فيها، {ففتقناهما}؛ السماء بالمطر، والأرض بالنبات. أليس الذي أوجَدَ في السماء السحاب بعد أن كان الجوُّ صافياً لا قَزَعَةَ فيه، وأودَعَ فيه الماء الغزير، ثم ساقه إلى بلدٍ ميِّتٍ قد اغبرَّت أرجاؤه وقحط عنه ماؤه، فأمطره فيها، فاهتزَّت وتحرَّكت ورَبَتْ وأنبتت من كلِّ زوج بهيج مختلفِ الأنواع متعددِ المنافع؛ أليس ذلك دليلاً على أنه الحقُّ وما سواه باطلٌ، وأنَّه محيي الموتى، وأنَّه الرحمن الرحيم؟ ولهذا قال: {أفلا يؤمنون}؛ أي: إيماناً صحيحاً ما فيه شكٌ ولا شرك.