تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 27

لَا یَسۡبِقُوۡنَہٗ بِالۡقَوۡلِ وَ ہُمۡ بِاَمۡرِہٖ یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۲۷﴾
وہ بات کرنے میں اس سے پہل نہیں کرتے اور وہ اس کے حکم کے ساتھ ہی عمل کرتے ہیں۔ En
اس کے آگے بڑھ کر بول نہیں سکتے۔ اور اس کے حکم پر عمل کرتے ہیں
En
کسی بات میں اللہ پر پیش دستی نہیں کرتے بلکہ اس کے فرمان پر کاربند ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿لَا یَسْبِقُوْنَهٗ بِالْقَوْلِ تدبیر مملکت کے متعلق اس وقت تک کوئی بات نہیں کرتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ارشاد نہ فرمائے کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کامل طور پرمؤدب اور اللہ تعالیٰ کے کمال علم و حکمت سے پوری طرح آگاہ ہیں۔ ﴿ وَهُمْ بِاَمْرِهٖ یَعْمَلُوْنَ وہ انھیں جو بھی حکم دیتا ہے وہ اس کی تعمیل کرتے ہیں اور جس کام پر انھیں لگاتا ہے وہ اسے سرانجام دیتے ہیں۔ وہ لمحہ بھر کے لیے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتے ہیں نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو نظر انداز کر کے اپنی خواہشات نفس کے پیچھے لگتے ہیں۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لا يسبِقونَهُ بالقول}؛ أي: لا يقولون قولاً مما يتعلَّق بتدبير المملكة حتى يقول الله؛ لكمال أدبهم وعلمهم بكمال حكمته وعلمه. {وهم بأمرِهِ يعملونَ}؛ أي: مهما أمَرَهم؛ امتثلوا لأمره، ومهما دبَّرهم عليه؛ فعلوه؛ فلا يعصونه طرفةَ عين، ولا يكون لهم عملٌ بأهواء أنفسهم من دون أمر الله.