تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 17

لَوۡ اَرَدۡنَاۤ اَنۡ نَّتَّخِذَ لَہۡوًا لَّاتَّخَذۡنٰہُ مِنۡ لَّدُنَّاۤ ٭ۖ اِنۡ کُنَّا فٰعِلِیۡنَ ﴿۱۷﴾
اگر ہم چاہتے کہ کوئی کھیل بنائیں تو یقینا اسے اپنے پاس سے بنا لیتے، اگر ہم کرنے والے ہوتے۔ En
اگر ہم چاہتے کہ کھیل (کی چیزیں یعنی زن وفرزند) بنائیں تو اگر ہم کو کرنا ہوتا تو ہم اپنے پاس سے بنالیتے
En
اگر ہم یوں ہی کھیل تماشے کا اراده کرتے تو اسے اپنے پاس سے ہی بنا لیتے، اگر ہم کرنے والے ہی ہوتے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَوْ اَرَدْنَاۤ اَنْ نَّؔتَّؔخِذَ لَهْوًا اگر ہم کھیل تماشے ہی کا ارادہ کرتے یعنی بفرض محال اگر یہ تسلیم کر لیا جائے ﴿ لَّاتَّؔخَذْنٰهُ مِنْ لَّدُنَّاۤ تو ہم اسے بنا لیتے اپنی طرف ہی سے۔ ﴿ اِنْ كُنَّا فٰعِلِیْ٘نَ اگر ہوتے ہم کرنے والے۔ اور کھیل تماشے کی بابت تمھیں مطلع بھی نہ کرتے کیونکہ یہ نقص اور برا وصف ہے، جسے ہم تمھیں دکھانا پسند نہ کرتے۔ یہ زمین و آسمان جو ہمیشہ سے تمھارے سامنے ہیں، ممکن نہیں کہ ان کو عبث اور کھیل تماشے کے مقصد سے پیدا کیا گیا ہو۔ یہ سب کچھ موٹی عقل کے لوگوں کی سطح پر اتر کر کہا گیا ہے تاکہ ان کو ہر لحاظ سے مطمئن کیا جائے۔ پس پاک ہے وہ ذات جو حلم والی، رحم کرنے والی اور حکمت والی ہے، وہ تمام اشیاء کو ان کے اپنے مقام پر رکھنے میں حکمت سے کام لیتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لو أردْنا أن نَتَّخِذَ لهواً}: على الفرض والتقدير المُحال؛ {لاتَّخذناه من لَدُنَّا}؛ أي: من عندنا، {إن كنَّا فاعلين}: ولم نطلِعكْم على ما فيه عبثٌ ولهوٌ؛ لأنَّ ذلك نقصٌ ومَثَلُ سَوْءٍ لا نحبُّ أن نرِيَه إياكم؛ فالسماوات والأرض اللذان بمرأى منكم على الدوام لا يمكنُ أن يكون القصدُ منهما العبثُ واللهو؛ كلُّ هذا تنزُّل مع العقول الصغيرة وإقناعها بجميع الوجوه المقنعة؛ فسبحان الحليم الرحيم الحكيم في تنزيله الأشياء منازلها.