تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 111

وَ اِنۡ اَدۡرِیۡ لَعَلَّہٗ فِتۡنَۃٌ لَّکُمۡ وَ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۱۱۱﴾
اور میں نہیں جانتا شاید یہ تمھارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک وقت تک کچھ فائدہ اٹھانا ہو۔ En
اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)
En
مجھے اس کا بھی علم نہیں، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک مقرره وقت تک کا فائده (پہنچانا) ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِنْ اَدْرِیْۤ اَ٘قَ٘رِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے) کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔
﴿ وَاِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّـكُمْ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنْ أدْري لعلَّه فتنةٌ لكم ومتاعٌ إلى حين}؛ أي: لعلَّ تأخير العذاب الذي استعجَلْتُموه شرٌّ لكم، وإنْ تُمَتَّعوا في الدُّنيا إلى حين، ثم يكون أعظم لعقوبتكم.