تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ قٰلَرَبِّاحْكُمْبِالْحَقِّ﴾”کہا، اے میرے رب! حق کے ساتھ فیصلہ کر دے“ یعنی ہمارے اور کافروں کی قوم کے درمیان۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے یہ دعا قبول فرما لی اور اس دنیا میں ان کے درمیان فیصلہ کر دیا اور اللہ تعالیٰ نے جنگ بدر وغیرہ میں ان کافروں کو سزا دے دی۔ ﴿ وَرَبُّنَاالرَّحْمٰنُالْمُسْتَعَانُعَلٰىمَاتَصِفُوْنَ ﴾ یعنی تم جو باتیں بناتے ہوں ان کے مقابلے میں ہم اپنے رب رحمان ہی سے سوال کرتے ہیں اور اسی سے مدد کے طلب گار ہیں، ہم عنقریب تم پر غالب آئیں گے اور عنقریب تمھارا دین ختم ہو جائے گا۔ پس اس بارے میں ہم کسی خود پسندی میں مبتلا ہیں نہ ہم اپنی قوت و اختیار پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ہم تو رب رحمن سے مدد مانگتے ہیں جس کے قبضۂ قدرت میں تمام مخلوق کی پیشانی ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ہم نے رب رحمن سے جس امر کے بارے میں استعانت طلب کی ہے، وہ اپنی رحمت سے ضرور اس کو پورا کرے گا… اور اس نے ایسا کیا۔ ولِلّٰہِالْحَمْد۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
{قال ربِّ احكُم بالحقِّ}؛ أي: بيننا وبين القوم الكافرين؛ فاستجابَ الله هذا الدُّعاء، وحكم بينَهم في الدُّنيا قبل الآخرة بما عاقب الله به الكافرين من وقعة بدرٍ وغيرها. {وربُّنا الرحمن المستعانُ على ما تصفِونَ}؛ أي: نسأل ربَّنا الرحمن ونستعينُ به على ما تصِفون من قولكم: سنظهرُ عليكُم، وسيضمحلُّ دينكم! فنحنُ في هذا لا نعجبُ بأنفسنا، ولا نتَّكِلُ على حولنا وقوَّتِنا، وإنَّما نستعينُ بالرحمن الذي ناصيةُ كلِّ مخلوقٍ بيدِهِ، ونرجوه أن يُتِمَّ ما اسْتَعَنَّاه به من رحمتِهِ. وقد فعل ولله الحمد.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔