ترجمہ و تفسیر — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 111

وَ اِنۡ اَدۡرِیۡ لَعَلَّہٗ فِتۡنَۃٌ لَّکُمۡ وَ مَتَاعٌ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۱۱۱﴾
اور میں نہیں جانتا شاید یہ تمھارے لیے ایک آزمائش ہو اور ایک وقت تک کچھ فائدہ اٹھانا ہو۔ En
اور میں نہیں جانتا شاید وہ تمہارے لئے آزمائش ہو اور ایک مدت تک (تم اس سے) فائدہ (اٹھاتے رہو)
En
مجھے اس کا بھی علم نہیں، ممکن ہے یہ تمہاری آزمائش ہو اور ایک مقرره وقت تک کا فائده (پہنچانا) ہے En

تفسیر القرآن کریم از عبدالسلام بن محمد

(آیت 111){ وَ اِنْ اَدْرِيْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّكُمْ …:} یعنی مجھے معلوم نہیں کہ شاید عذاب میں یہ تاخیر تمھارے لیے آزمائش ہو کہ تم اس سے فائدہ اٹھا کر حق کی طرف پلٹتے ہو، یا اپنی سرکشی میں مزید ترقی کرتے ہو، جس کے بعد یہ مہلت دنیا میں کچھ دیر تک فائدہ اٹھانے کے لیے دی گئی ہو۔

تفسیر احسن البیان از حافظ صلاح الدین یوسف

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

تيسير القرآن از مولانا عبدالرحمن کیلانی

111۔ اور میں نہیں جانتا کہ شاید یہ (عذاب میں تاخیر) تمہارے لئے ایک فتنہ ہو [98] اور تمہیں ایک معینہ مدت تک مزے اڑانے کا موقع دیا جاتا ہے۔
[98] البتہ یہ بات ضرور کہوں گا کہ اگر تم پر عذاب آنے میں تاخیر ہو رہی ہے تو اس سے یہ نہ سمجھ لینا کہ تم سچے ہو اور اللہ تم سے راضی ہے۔ بلکہ یہ تاخیر تمہارے گناہوں میں اضافہ کا سبب بن کر تمہارے حق میں وبال جان بن سکتی ہے۔ الا یہ کہ تم اس دوران سنبھل جاؤ اور ہوش کے ناخن لو۔

تفسیر ابن کثیر مع تخریج و تحکیم

اس آیت کی تفسیر اگلی آیات کیساتھ ملاحظہ کریں۔

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿وَاِنْ اَدْرِیْۤ اَ٘قَ٘رِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ یعنی جس عذاب کا تمھارے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے (میں نہیں جانتا کہ وہ عذاب قریب آن لگا ہے یا دور ہے) کیونکہ اس کا علم اللہ تعالیٰ کے پاس ہے اور اسی کے قبضۂ قدرت میں ہے، میرے اختیار میں کچھ بھی نہیں۔
﴿ وَاِنْ اَدْرِیْ لَعَلَّهٗ فِتْنَةٌ لَّـكُمْ وَمَتَاعٌ اِلٰى حِیْنٍ یعنی… شاید اس عذاب میں تاخیر جس کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو، تمھارے لیے بہت بری ہے اور اگر تم ایک وقت مقرر تک اس دنیا سے متمتع ہوتے ہو تو یہ تمھارے لیے بہت بڑے عذاب کا باعث ہو گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{وإنْ أدْري لعلَّه فتنةٌ لكم ومتاعٌ إلى حين}؛ أي: لعلَّ تأخير العذاب الذي استعجَلْتُموه شرٌّ لكم، وإنْ تُمَتَّعوا في الدُّنيا إلى حين، ثم يكون أعظم لعقوبتكم.