تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 108

قُلۡ اِنَّمَا یُوۡحٰۤی اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰـہُکُمۡ اِلٰہٌ وَّاحِدٌ ۚ فَہَلۡ اَنۡتُمۡ مُّسۡلِمُوۡنَ ﴿۱۰۸﴾
کہہ دے میری طرف یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود صرف ایک معبود ہے، تو کیا تم فرماں برداری کرنے والے ہو؟ En
کہہ دو کہ مجھ پر (خدا کی طرف سے) یہ وحی آتی ہے کہ تم سب کا معبود خدائے واحد ہے۔ تو تم کو چاہیئے کہ فرمانبردار بن جاؤ
En
کہہ دیجئے! میرے پاس تو پس وحی کی جاتی ہے کہ تم سب کا معبود ایک ہی ہے، تو کیا تم بھی اس کی فرمانبرداری کرنے والے ہو؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ قُ٘لْ اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کہہ دیجیے! ﴿ اِنَّمَا یُوْحٰۤى اِلَیَّ اَنَّمَاۤ اِلٰهُكُمْ اِلٰ٘هٌ وَّاحِدٌ میری طرف تو یہی وحی کی جاتی ہے کہ تمھارا معبود ایک ہی معبود ہے۔ جس کے سوا کوئی ہستی عبادت کی مستحق نہیں، اس لیے فرمایا: ﴿ فَهَلْ اَنْتُمْ مُّسْلِمُوْنَ یعنی کیا تم اس کی عبودیت کو اختیار اور اس کی الوہیت کے سامنے سرتسلیم خم کرتے ہو؟… اگر وہ ایسا کریں تو انھیں اپنے رب کی ستائش کرنی چاہیے کہ اس نے ان کو اس نعمت سے سرفراز کیا، جو تمام نعمتوں پر فوقیت رکھتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{قل} يا محمد: {إنَّما يُوحى إليَّ أنَّما إلهكم إلهٌ واحدٌ}: الذي لا يستحقُّ العبادةَ إلاَّ هو، ولهذا قال: {فهل أنتُم مسلِمونَ}؛ أي: منقادون لعبوديَّتِهِ مستسلِمون لألوهيَّتِهِ؛ فإنْ فَعَلوا؛ فَلْيَحْمدوا ربَّهم على ما منَّ عليهم بهذه النعمة التي فاقت المنن.