پھر اگر وہ منہ موڑ لیں تو کہہ دے میں نے تمھیں اس طرح خبردار کر دیا ہے کہ (ہم تم) برابر ہیں اور میں نہیں جانتا آیا قریب ہے یا دور، جس کا تم وعدہ دیے جاتے ہو۔
En
اگر یہ لوگ منہ پھیریں تو کہہ دو کہ میں نے تم کو سب کو یکساں (احکام الہیٰ سے) آگاہ کردیا ہے۔ اور مجھ کو معلوم نہیں کہ جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ (عن) قریب (آنے والی) ہے یا (اس کا وقت) دور ہے
پھر اگر یہ منھ موڑ لیں تو کہہ دیجئے کہ میں نے تمہیں یکساں طور پر خبردار کر دیا ہے۔ مجھے علم نہیں کہ جس کا وعده تم سے کیا جا رہا ہے وه قریب ہے یا دور
En
تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی
﴿ فَاِنْتَوَلَّوْا ﴾ اگر وہ اپنے رب کی عبودیت سے منہ موڑ لیں تو ان کو گزری ہوئی قوموں پر نازل ہونے والے عذاب اور سزا سے ڈراؤ! ﴿ فَقُلْاٰذَنْتُكُمْ﴾ یعنی میں نے اللہ تعالیٰ کے عذاب کے بارے میں تمھیں آگاہ کر دیا ہے ﴿ عَلٰىسَوَآءٍ ﴾”برابری پر۔“ یعنی میں اور تم اس حقیقت کو برابر طور پر جانتے ہیں، اس لیے جب تم پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برسے تو یہ نہ کہنا ﴿ مَاجَآءَنَامِنْۢبَشِیْرٍوَّلَانَذِیْرٍ ﴾ (المائدۃ:5؍19) ”ہمارے پاس کوئی خوشخبری دینے والا آیا ہے نہ کوئی ڈرانے والا۔“ بلکہ ہم اس حقیقت سے برابر طور پر آگاہ ہیں کیونکہ میں تم کو ڈرا چکا ہوں اور تمھیں کفر کے انجام کے بارے میں آگاہ کر چکا ہوں اور میں نے تم سے کچھ بھی نہیں چھپایا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں
وإنْ {تَوَلَّوْا}: عن الانقياد لعبوديَّة ربِّهم؛ فحذِّرْهم حلول المَثُلات ونزول العقوبة. {فقُلْ آذنْتُكم}؛ أي: أعلمتُكم بالعقوبة، {على سواءٍ}؛ أي: علمي وعلمُكم بذلك مستوٍ؛ فلا تقولوا إذا نزل بكم العذاب: ما جاءنا من بشيرٍ ولا نذيرٍ، بل الآن استوى علمي، وعلمُكم لمَّا أنذرتُكم وحذرتُكم وأعلمتُكم بمآل الكفر، ولم أكتُم عنْكُم شيئاً. {وإنْ أدري أقريبٌ أم بعيدٌ ما توعدونَ}؛ أي: من العذاب؛ لأنَّ عِلْمَهُ عند الله، وهو بيده؛ ليس لي من الأمر شيءٌ.
اہم:
ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر
واٹس اپ
پر اطلاع دیں یا
ای میل کریں۔