تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 107

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنٰکَ اِلَّا رَحۡمَۃً لِّلۡعٰلَمِیۡنَ ﴿۱۰۷﴾
اور ہم نے تجھے نہیں بھیجا مگر جہانوں پر رحم کرتے ہوئے۔ En
اور (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو تمام جہان کے لئے رحمت (بنا کر) بھیجا ہے
En
اور ہم نے آپ کو تمام جہان والوں کے لئے رحمت بنا کر ہی بھیجا ہے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

پھر اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی جو قرآن لے کر آئے، مدح بیان کرتے ہوئے فرمایا: ﴿ وَمَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْ٘عٰلَمِیْنَ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بندوں کے لیے اس کی رحمت کا تحفہ ہیں۔ پس اہل ایمان نے اس رحمت کو قبول کیا، اس کی قدر کی اور اس کے تقاضوں پر عمل کیا اور جو آپ پر ایمان نہ لائے انھوں نے اللہ کی نعمت کو کفر سے بدل دیا اور اس کی اس رحمت اور نعمت کو قبول کرنے سے انکار کر دیا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ثم أثنى على رسولِهِ الذي جاء بالقرآن، فقال: {وما أرْسَلْناك إلاَّ رحمةً للعالمين}: فهو رحمتُهُ المهداةُ لعبادِهِ؛ فالمؤمنون به قَبِلوا هذه الرحمة وشكروها وقاموا بها، وغيرُهم كفروها، وبدَّلوا نعمةَ الله كفراً، وأبوا رحمةَ الله ونعمته.