تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 100

لَہُمۡ فِیۡہَا زَفِیۡرٌ وَّ ہُمۡ فِیۡہَا لَا یَسۡمَعُوۡنَ ﴿۱۰۰﴾
ان کے لیے ا س میں گدھے جیسی آواز ہوگی اور وہ اس میں نہیں سنیں گے۔ En
وہاں ان کو چلاّنا ہوگا اور اس میں (کچھ) نہ سن سکیں گے
En
وه وہاں چلا رہے ہوں گے اور وہاں کچھ بھی نہ سن سکیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

﴿ لَهُمْ فِیْهَا زَفِیْرٌ وہ جہنم میں پھنکاریں گے شدت عذاب کی وجہ سے ﴿ وَّهُمْ فِیْهَا لَا یَسْمَعُوْنَ وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہوں گے یا جہنم کے سخت بھڑکنے، اس کے غیظ و غضب اور اس کی پھنکار کے باعث، جہنم کی آواز کے سوا کوئی اور آواز نہیں سن سکیں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

{لهم فيها زفيرٌ}: من شدَّة العذاب، {وهُم فيها لا يسمعونَ}: صمٌ بكمٌ عميٌ، أو لا يسمعون من الأصوات غيرَ صوتِها؛ لشدَّة غليانها، واشتداد زفيرها وتغيظها.