تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 101

اِنَّ الَّذِیۡنَ سَبَقَتۡ لَہُمۡ مِّنَّا الۡحُسۡنٰۤی ۙ اُولٰٓئِکَ عَنۡہَا مُبۡعَدُوۡنَ ﴿۱۰۱﴾ۙ
بے شک وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے پہلے بھلائی طے ہو چکی، وہ اس سے دور رکھے گئے ہوں گے۔ En
جن لوگوں کے لئے ہماری طرف سے پہلے بھلائی مقرر ہوچکی ہے۔ وہ اس سے دور رکھے جائیں گے
En
البتہ بے شک جن کے لئے ہماری طرف سے نیکی پہلے ہی ٹھہر چکی ہے۔ وه سب جہنم سے دور ہی رکھے جائیں گے En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اور مشرکین کے معبودوں کا جہنم میں داخل ہونا اس وجہ سے ہے کہ وہ پتھر کے بت ہیں یا صرف اس شخص کو اپنی عبادت کرنے والوں کے ساتھ جہنم میں جھونکا جائے گا جو اپنی عبادت كيے جانے پر راضی تھا۔ رہے حضرت مسیح، حضرت عزیر علیہما السلام، فرشتے اور اولیاء کرام جن کی عبادت کی جاتی ہے تو ان کو عذاب نہیں دیا جائے گا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کے تحت آتے ہیں۔ ﴿ اِنَّ الَّذِیْنَ سَبَقَتْ لَهُمْ مِّؔنَّا الْحُسْنٰۤى اور وہ لوگ کہ سبقت کر گئی ان کے لیے ہماری طرف سے بھلائی۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے علم میں ان کے لیے پہلے ہی سے لوح محفوظ میں سعادت لکھ دی گئی اور دنیا میں نیک اعمال ان کے لیے آسان کر دیے گئے ہیں۔ ﴿اُولٰٓىِٕكَ عَنْهَا یہ لوگ اس سے۔ یعنی جہنم سے ﴿ مُبْعَدُوْنَ دور رکھے جائیں گے۔ پس وہ جہنم میں داخل ہوں گے نہ جہنم کے قریب جائیں گے بلکہ وہ اس سے انتہائی حد تک دور رہیں گے حتیٰ کہ اس کی آواز تک نہیں سنیں گے اور نہ اس کا نظارہ کر سکیں گے۔
﴿ وَهُمْ فِیْ مَا اشْتَهَتْ اَنْفُسُهُمْ خٰؔلِدُوْنَ یعنی وہ اپنے من چاہے ماکولات، مشروبات، بیویوں اور دلکش مناظر میں ہمیشہ رہیں گے، جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا ہے نہ کسی کان نے سنا ہے اور نہ کسی کے دل میں ان کے طائر خیال کا گزر ہوا ہے۔ یہ نعمتیں ان کے لیے ہمیشہ رہیں گی، ان کا حسن سالہا سال گزرنے پر بھی روز افزوں ہی رہے گا۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

ودُخول آلهة المشركين النار إنَّما هو الأصنام أو مَنْ عُبِدَ وهو راضٍ بعبادتِهِ، وأمَّا المسيح وعزيرٌ والملائكةُ ونحوهم ممَّن عُبِد من الأولياء؛ فإنَّهم لا يعذَّبون فيها، ويدخُلون في قوله: {إنَّ الذين سَبَقَتْ لهم منّا الحُسنى}؛ أي: سبقت لهم سابقةُ السعادة في علم الله وفي اللَّوح المحفوظ وفي تيسيرهم في الدُّنيا لليسرى والأعمال الصالحة. {أولئك عنها}؛ أي: عن النار {مبعَدون}: فلا يدخُلونها، ولا يكونونَ قريباً منها، بل يُبْعدَون عنها غايةَ البعدِ، حتَّى لا يسمَعوا حسيسها، ولا يروا شخصَها. {وهم فيما اشتهتْ أنفسُهُم خالدونَ}: من المآكل والمشارب والمناكح والمناظر مما لا عينٌ رأتْ ولا أذنٌ سمعت ولا خَطَرَ على قلب بشر، مستمرٌّ لهم ذلك، يزداد حسنُه على الأحقاب.