تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 99

لَوۡ کَانَ ہٰۤؤُلَآءِ اٰلِہَۃً مَّا وَرَدُوۡہَا ؕ وَ کُلٌّ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۹۹﴾
اگر یہ معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے اور یہ سب اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔ En
اگر یہ لوگ (درحقیقت) معبود ہوتے تو اس میں داخل نہ ہوتے۔ سب اس میں ہمیشہ (جلتے) رہیں گے
En
اگر یہ (سچے) معبود ہوتے تو جہنم میں داخل نہ ہوتے، اور سب کے سب اسی میں ہمیشہ رہنے والے ہیں En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

بتوں کو جہنم میں جھونکنے میں حکمت یہ ہے… حالانکہ یہ پتھر ہیں، عقل و شعور نہیں رکھتے اور ان کا کوئی گناہ بھی نہیں … کہ ان کا کذب و افترا واضح ہو جائے جنھوں نے ان بتوں کو معبود بنا رکھا تھا اور تاکہ ان کے عذاب میں اضافہ ہو۔
اس لیے فرمایا: ﴿ لَوْ كَانَ هٰۤؤُلَآءِ اٰلِهَةً مَّا وَرَدُوْهَا اگر یہ واقعی معبود ہوتے تو جہنم میں کبھی داخل نہ ہوتے۔ یہ آیت کریمہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد مقدس کی مانند ہے۔ ﴿لِیُبَیِّنَ لَهُمُ الَّذِیْ یَخْتَلِفُوْنَ فِیْهِ وَلِیَعْلَمَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّهُمْ كَانُوْا كٰذِبِیْنَ (النحل:16؍39) تاکہ اللہ تعالیٰ ان کے سامنے اس حقیقت کو اضح کر دے جس میں یہ اختلاف کر رہے ہیں اور تاکہ کفار جان لیں کہ وہ جھوٹے تھے۔ اور عابدومعبود سب ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے، اس سے کبھی باہر نہیں نکلیں گے اور نہ جہنم سے کسی اور جگہ منتقل ہوں گے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

والحكمةُ في دخول الأصنام النار وهي جمادٌ لا تعقِل، وليس عليها ذنبٌ؛ بيانُ كَذِبِ من اتَّخذها آلهةً، وليزداد عذابُهم؛ فلهذا قال: {لو كانَ هؤلاءِ آلهةً ما وَرَدوها}: هذا كقوله تعالى: {لِيُبَيِّنَ لهم الذي يختلفونَ فيه ولِيعلمَ الذين كفروا أنَّهم كانوا كاذبينَ}، وكلٌّ من العابدين والمعبودين فيها خالدون، لا يخرجون منها، ولا ينتقلون عنها.