تفسیر السعدی (عبدالرحمٰن السعدی) — سورۃ الأنبياء (21) — آیت 10

لَقَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اِلَیۡکُمۡ کِتٰبًا فِیۡہِ ذِکۡرُکُمۡ ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ ﴿٪۱۰﴾
بلاشبہ یقینا ہم نے تمھاری طرف ایک کتاب نازل کی ہے، جس میں تمھارا ذکر ہے، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟ En
ہم نے تمہاری طرف ایسی کتاب نازل کی ہے جس میں تمہارا تذکرہ ہے۔ کیا تم نہیں سمجھتے
En
یقیناً ہم نے تمہاری جانب کتاب نازل فرمائی ہے جس میں تمہارے لئے ذکر ہے، کیا پھر بھی تم عقل نہیں رکھتے؟ En

تفسیر السعدی (تیسیر الکریم الرحمٰن) از شیخ عبدالرحمٰن السعدی

اے وہ لوگو! جن کی طرف محمد بن عبداللہ بن عبدالمطلب صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول بنا کر بھیجا گیا ہے، ہم نے تمھاری طرف ایک جلیل القدر کتاب اور ایک واضح قرآن نازل کیا ﴿ فِیْهِ ذِكْرُؔكُمْ یعنی جو کچھ اس میں سچی باتیں بیان کی گئیں ہیں اگر تم اس سے نصیحت پکڑو، انھیں اپنا اعتقاد بناؤ اس کے احکام کی تعمیل کرو اور اس کے نواہی سے اجتناب کرو تو اس میں تمھارا شرف و فخر اور تمھاری سربلندی ہے، تمھاری قدر بڑھے گی اور تمھارا معاملہ عظیم ہو جائے گا۔ ﴿ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ کیا تم ان معاملات کو نہیں سمجھ سکتے جن میں تمھارا نفع و نقصان ہے؟ تم اس چیز پر کیوں عمل پیرا نہیں ہوتے جس میں تمھارا ذکر اور جس میں تمھارے لیے دنیا و آخرت کا شرف ہے؟ اگر تم میں عقل ہوتی تو تم اسی راستے پر گامزن ہوتے۔
چونکہ تم اسے راستے پر نہیں چلے بلکہ تم نے کوئی دوسرا راستہ اختیار کر لیا ہے جس میں تمھارے لیے دنیا و آخرت کی ذلت اور تحقیر ہے اور جس کی منزل تمھارے لیے دنیا و آخرت کی بدبختی ہے، اس لیے معلوم ہوا کہ تم صحیح معقولات اور راجح آراء سے تہی دامن ہو… جو کچھ واقع ہوا یہ آیت کریمہ اس کا مصداق ہے۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے والے صحابہ کرام اور بعد میں آنے والے اہل ایمان نے اس قرآن سے نصیحت پکڑی تو انھیں غلبہ، سربلندی، عظیم شہرت اور بادشاہوں پر سرداری حاصل ہوئی اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے ہر شخص جانتا ہے جیسے اس شخص کے بارے میں معلوم ہے جس نے اس قرآن کے ذریعے سے سربلندی حاصل نہیں کی، اس کی راہنمائی قبول نہیں کی اور اس کے ذریعے اپنے آپ کو پاک نہ کیا، اس کے نصیب میں اللہ تعالیٰ کی ناراضی، ذلت و رسوائی، گمنامی اور بدبختی ہے۔ پس دنیا و آخرت کی سعادت تک رسائی صرف اس کتاب عظیم کے ذریعے نصیحت پکڑنے ہی سے حاصل ہو سکتی ہے۔
عربی متن (تفسیر السعدی) دیکھیں

أي: {لقد أنزلنا إليكم}: أيُّها المرسل إليهم محمد بن عبد الله بن عبد المطلب {كتاباً}: جليلاً وقرآناً مبيناً. {فيه ذِكْرُكُم}؛ أي: شرفكم وفخركم وارتفاعكم: إن تذكَّرتم به ما فيه من الأخبار الصَّادقة فاعتقدتمُوها، وامتثَلْتُم ما فيه من الأوامر، واجتنبتم ما فيه من النواهي؛ ارتفع قدرُكم وعظُم أمركم. {أفلا تعقِلونَ}: ما ينفعكم وما يضرُّكم؛ كيف لا تعملون على ما فيه ذكرُكم وشرفُكم في الدنيا والآخرة؟! فلو كان لكم عقلٌ؛ لسلكتُم هذا السبيل، فلما لم تسلكوه وسلكتُم غيره من الطُّرق التي فيها ضَعَتُكم وخِسَّتُكم في الدنيا والآخرة وشقاوتُكم فيهما؛ عُلم أنه ليس لكم معقولٌ صحيحٌ ولا رأيٌ رجيحٌ.

وهذه الآية مصداقها ما وقع؛ فإنَّ المؤمنين بالرسول والذين تذكَّروا بالقرآن من الصحابة فَمَنْ بعدَهم؛ حصل لهم من الرِّفعة والعلوِّ الباهر والصيت العظيم والشرف على الملوك ما هو أمرٌ معلومٌ لكلِّ أحدٍ؛ كما أنه معلومٌ ما حصل لمن لم يَرْفَعْ بهذا القرآن رأساً، ولم يهتدِ به ويتزكَّى به من المقتِ والضَّعَةِ والتَّدْسِيَة والشقاوةِ؛ فلا سبيل إلى سعادة الدُّنيا والآخرة إلاَّ بالتذكُّر بهذا الكتاب.